Bharat Express DD Free Dish

Free Trade Agreement Talks

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ سرمایہ کاری، خدمات اور زرعی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی طلبہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔

بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کے روز قومی دارالحکومت دہلی میں سفارتی سرگرمیوں کی ایک طویل اور اہم سلسلے کے تحت یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور خلیجی ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال کیا، جسے عالمی سطح پر بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی طاقت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے کو تاریخی اور تبدیلی لانے والا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کی معیشت کو نئی سمت دے گا، منڈیوں کا دائرہ وسیع کرے گا اور لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

ارسولا وان ڈیر لیئن نے دفاعی صنعت میں بھارت اور یورپ کے طویل مدتی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم صرف اپنی معیشتوں کو مضبوط نہیں کر رہے، بلکہ ایک غیر محفوظ دنیا میں اپنے عوام کے لیے تحفظ بھی فراہم کر رہے ہیں۔ آج دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں اور جمہوریتیں اپنی پہلی سکیورٹی اور دفاعی شراکت داری کا آغاز کر رہی ہیں۔

بھارت-ای یو فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو بھارت کے عالمی تجارت کو فروغ دینے کی سمت ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ امریکہ کی جانب سے عائد بلند ٹیرف کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے یورپی منڈی میں بھارتی مصنوعات کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور زیورات جیسے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

کامرس سکریٹری راجیش اگروال نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ایف ٹی اے پر بات چیت اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 جنوری کو ہونے والی اعلیٰ سطحی قیادت کی میٹنگ سے قبل باقی ماندہ نکات کو حل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔