بھارت کی کمپنیوں اور ان کے غیر ملکی شراکت داروں کے درمیان کھاد کے شعبے میں ملک سے باہر ہونے والے سب سے بڑے مشترکہ منصوبوں میں سے ایک کے تحت، راشٹریہ کیمیکلز اینڈ فرٹیلائزرز لمیٹڈ، نیشنل فرٹیلائزرز لمیٹڈ اور انڈین پوٹاش لمیٹڈ نے آج روس کی یورال کیم گروپ کے ساتھ روس میں 18 سے 20 لاکھ ٹن کی یوریا فیکٹری قائم کرنے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ، جس پر دستخط روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے بھارت دورے کے دوران ہوئے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی کمپنیوں اور غیر ملکی شراکت داروں کے درمیان ملک سے باہر کھاد کی پیداوار کا یہ سب سے بڑا مشترکہ منصوبہ ہوگا۔اب تک اس طرح کا سب سے بڑا مشترکہ منصوبہ عمان انڈیا فرٹیلائزر لمیٹڈ ہے، جو عمان میں واقع ہے اور سالانہ تقریباً 16.5 لاکھ ٹن یوریا تیار کرتا ہے۔ اس میں بھارت کی ایفکو اور کریبھکو پارٹنرز ہیں۔ یورال کیم جے ایس سی — جو یورال کیم گروپ کا حصہ ہے — اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے نائٹروجن اور مرکب کھاد بنانے اور برآمد کرنے والے اداروں میں شامل ہے۔ کمپنی کے پیداواری یونٹ روس کے کالینین گراڈ، کیروف، ماسکو اور پِرم علاقوں میں واقع ہیں۔
یورال کیم گروپ میں ملازمین کی تعداد تقریباً 38 ہزار
یورال کیم گروپ خود معدنی کھاد اور کیمیائی مصنوعات کا دنیا کے اہم ترین پیدا کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بنیادی اثاثوں میں روس کی تین بڑی کمپنیاں — یورال کیم جے ایس سی، یورالکالی پی جے ایس سی اور توآز جے ایس سی — شامل ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ ٹن ہے۔ یورال کیم گروپ میں ملازمین کی تعداد تقریباً 38 ہزار ہے۔ بیان کے مطابق روس میں قائم ہونے والا یہ پلانٹ ٹولیاتی آزوٹ جے ایس سی یا توآز جے ایس سی کی جانب سے تیار کیا گیا امونیا استعمال کرے گا، جبکہ پروجیکٹ کی فنانسنگ بھارتی کمپنیاں اس وقت تک کریں گی جب تک پلانٹ تجارتی طور پر چلنا شروع نہیں ہو جاتا۔ بیان میں کہا گیا کہ منصوبے کے تکنیکی پہلوؤں اور مالیاتی ممکنات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فریقین مشترکہ منصوبے کی کارپوریٹ ساخت اور حکمرانی کے طریقہ کار پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے یورال کیم کے سی ای او دمتری کونیاایف نے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر ایک بڑا زرعی ملک ہے اور معدنی کھادوں کا دنیا کے سب سے بڑے صارفین میں شمار ہوتا ہے۔ یورال کیم گروپ کے لیے بھارت ہمیشہ سے اسٹریٹجک مارکیٹ رہا ہے اور وہ بھارتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اپنے مشترکہ بیان میں صدر پوتن اور وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کو کھاد کی طویل المدتی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کا خیر مقدم کیا اور اس شعبے میں مشترکہ منصوبے قائم کرنے کے امکانات پر بات چیت کی۔ مودی نے اپنی تقریر میں بھی اس میدان میں روس کی شراکت کو اجاگر کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


