Bharat Express DD Free Dish

Cockroach Janata Party’s Abhijit Dipke: اگر میں مسلمان ہوتا تو اب تک جیل میں ہوتا، سی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کے بیان پر نیا تنازع

 ابھیجیت دیپکے نے کہا ، “میں سمجھ نہیں پاتا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ اتنے بے حس اور مغرور کیسے ہو سکتے ہیں کہ انہیں ان خاندانوں سے رابطہ کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، جنہوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا ہے۔ آپ ان کے بچوں کو واپس نہیں لا سکتے، لیکن کم از کم ان سے مل کر افسوس اور معافی تو مانگ سکتے ہیں۔

نئی دہلی: جنتر منتر پر طلبہ کے مسائل، نیٹ (NEET) پیپر لیک، این ٹی اے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مختلف امتحانی گھوٹالوں کے خلاف جاری احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے کے ایک بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر پر دھرنا دے رہی ہے۔ اس احتجاج کو معروف سماجی کارکن اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھی حمایت حاصل ہے، جو نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل کے حل کے مطالبے پر جنتر منتر میں بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

 ایک انٹرویو میں ابھیجیت دیپکے نے کہا، “اگر میں خالد ہوتا یا مسلمان ہوتا تو اب تک جیل میں ہوتا، مجھے اس حقیقت کا احساس ہے۔” ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے اور کئی یوزرنے دہلی فسادات کیس میں گزشتہ تقریباً پانچ برس سے جیل میں بند عمر خالد کا حوالہ دینا شروع کر دیا۔ عمر خالد کو سپریم کورٹ سے بھی اب تک ضمانت نہیں مل سکی ہے۔ابھیجیت دیپکے حال ہی میں امریکہ سے واپس آکر نیٹ پیپر لیک، ایس ایس سی امتحانی بے ضابطگیوں اور دیگر تعلیمی مسائل کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ ان کے احتجاج کو نوجوانوں، طلبہ اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ اس احتجاج میں نیٹ پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ بھی شریک ہو رہے ہیں۔

دیپکے نے طلبہ کی خودکشی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دیپ میگھوال، آکانکشا چترویدی، امائرہ کمار اور کہان پٹیل جیسے طلبہ کے نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان آج بھی انصاف کے لیے دربدر ہیں، جبکہ حکومت کے کسی نمائندے نے ان سے ملاقات تک نہیں کی اور نہ ہی ان کے بچوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔

 ابھیجیت دیپکے نے کہا ، “میں سمجھ نہیں پاتا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ اتنے بے حس اور مغرور کیسے ہو سکتے ہیں کہ انہیں ان خاندانوں سے رابطہ کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، جنہوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا ہے۔ آپ ان کے بچوں کو واپس نہیں لا سکتے، لیکن کم از کم ان سے مل کر افسوس اور معافی تو مانگ سکتے ہیں۔ کیا یہ بھی بہت بڑی بات ہے؟”ابھیجیت دیپکے کے متنازع بیان اور حکومت پر لگائے گئے الزامات کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read