تحریر: خالد مصطفیٰ
ہندوستان صدیوں سے تہذیبوں، ثقافتوں اور فنونِ لطیفہ کا مرکز رہا ہے۔ اس سرزمین نے دنیا کو علم، ادب، فن، روحانیت اور جمالیات کا وہ سرمایہ عطا کیا جس نے انسانی تاریخ کو نئی سمتیں دیں۔ مگر بدلتے وقت، تیز رفتار مادّی ترقی اور جدید طرزِ زندگی کے دباؤ میں آج سب سے زیادہ خطرہ اسی تہذیبی ورثے کو لاحق ہے۔ ایسے ماحول میں جو ادارے سنجیدگی، فکری بصیرت اور اخلاص کے ساتھ ثقافت کے تحفظ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان میں وراثت (VIRASAT) کلچرل سینٹر علی گڑھ ایک نمایاں اور قابلِ احترام نام بن کر ابھری ہے۔
وراثت محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی تحریک ہے، جس کا بنیادی مقصد بھارتی سنسکرتی اور فنونِ لطیفہ کا تحفظ، فروغ اور نئی نسل تک منتقلی ہے۔ یہ ادارہ اس یقین کے ساتھ سرگرمِ عمل ہے کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑی نہ رہے۔ فن، ادب اور ثقافت دراصل قوموں کی شناخت ہوتے ہیں، اور ان سے دوری فکری انتشار کو جنم دیتی ہے۔
گزشتہ برسوں میں وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ نے جس منظم اور ہمہ گیر انداز میں اپنی سرگرمیاں انجام دی ہیں، وہ کسی بھی سنجیدہ ثقافتی ادارے کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ ادبی نشستیں، کتابوں کی رونمائی، فنِ مصوری اور فوٹوگرافی کی نمائشیں، ثقافتی پروگرام، سماجی و تعلیمی سرگرمیاں، قومی یکجہتی پر مبنی تقاریب اور نوجوانوں کے لیے فکری و تخلیقی مواقع، یہ سب وراثت کے وسیع وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔
وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہاں روایت اور جدت کو آمنے سامنے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ قدیم تہذیبی اقدار کو جدید فکری تناظر میں اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ نئی نسل انہیں محض ماضی کا قصہ نہ سمجھے بلکہ اپنی موجودہ زندگی سے جوڑ کر دیکھے۔ یہی وجہ ہے کہ وراثت کے پروگراموں میں نوجوانوں، طلبہ اور تخلیقی ذہنوں کی بھرپور شرکت نظر آتی ہے۔
یہ ادارہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور گنگا جمنی روایت پر یقین رکھتا ہے۔ وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ کے پلیٹ فارم پر زبان، مذہب اور طبقے کی تفریق کے بغیر ادیب، فنکار، اساتذہ اور سماجی کارکن یکجا ہوتے ہیں۔ یہ اجتماع محض رسمی نہیں بلکہ فکری مکالمے، سماجی ہم آہنگی اور تہذیبی ربط کی عملی مثال ہوتا ہے۔ آج کے دور میں، جب سماج کو تقسیم در تقسیم کا سامنا ہے، ایسی کوششیں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔
نوجوانوں کے حوالے سے وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ کی خدمات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ شناخت کے بحران سے گزر رہی نئی نسل کو اپنی تہذیبی بنیادوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے نوجوانوں کے لیے ایسے تخلیقی اور فکری پروگرام ترتیب دیے ہیں جو ان کے اندر اعتماد، شعور اور تہذیبی وابستگی پیدا کرتے ہیں۔
وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ کی کامیابی میں تنظیمی قیادت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ جنرل سیکریٹری افضال احمد کی قیادت میں اس ادارے نے ایک واضح سمت اور مضبوط شناخت حاصل کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ثقافت کا تحفظ محض تقریبات کے انعقاد سے نہیں بلکہ مستقل فکری جدوجہد، سماجی شمولیت اور تربیت سے ممکن ہے۔ یہی وژن وراثت کے ہر پروگرام میں جھلکتا ہے۔
وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ثقافتی سرگرمیاں سماجی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔ جب فن اور ادب سماج سے جڑتے ہیں تو سوچ بدلتی ہے، رویّے نرم ہوتے ہیں اور مکالمے کے دروازے کھلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وراثت کی سرگرمیاں محض تقریبات نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری عمل کا حصہ ہیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ثقافت کے تحفظ کے لیے صرف سرکاری سطح کی کوششیں کافی نہیں ہوتیں۔ سماجی اداروں، دانشوروں اور باشعور شہریوں کی مشترکہ جدوجہد ہی تہذیبی بقا کی ضمانت بن سکتی ہے۔ وراثت نے اسی احساس کے ساتھ اپنے دائرۂ عمل کو وسعت دی اور ثقافت کو سماجی ذمہ داری سے جوڑ دیا۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ نے قلیل مدت میں جو سفر طے کیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلوص، وژن اور مستقل محنت بڑے مقاصد حاصل کر سکتی ہے۔ اس کے مختلف مواقع پر سامنے آنے والے یادگار لمحات دراصل اسی مسلسل جدوجہد کی جھلک ہیں جو تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لیے جاری ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ آج صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک امید ہے،اس امید کی کہ ہندوستان کی تہذیبی روح زندہ رہے گی، فنونِ لطیفہ نئی نسل تک منتقل ہوں گے اور ثقافت ماضی کی داستان بن کر نہیں رہ جائے گی۔ اگر وراثت کلچرل سینٹر علی گڑھ جیسی سنجیدہ اور بامقصد کوششیں اسی طرح جاری رہیں تو یقیناً آنے والا وقت تہذیب، فن اور فکری شعور کے لیے روشن ثابت ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

