اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: پورے ملک میں کئی مقامات پرغیرقانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں پولیس نے ہریانہ کے گروگرام میں اس سے متعلق مہم چلائی۔ اس میں پولیس نے وہاں رہ رہے لوگوں کی جانچ کی۔ اس کے ساتھ ہی انہیں ہولڈنگ ایریا میں رکھا۔ اس سے متعلق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سے لے کرکئی نے اعتراض درج کرایا ہے۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ پولیس بنگالی زبان مسلم شہریوں کوغیرقانونی طورپرحراست میں لے رہی ہے۔
اسدالدین اویسی نے پولیس کی کارروائی پرسوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے کئی حصوں میں پولیس بنگالی بولنے والے مسلم شہریوں کو حراست میں لے رہی ہے۔ پولیس کی طرف سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ بنگلہ دیشی ہیں۔ بندوق کی نوک پربنگالی لوگوں کو بنگلہ دیش بھیجنے والی خبریں پریشان کررہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کمزوروں کے ساتھ سختی سے پیش آتی ہے۔ اویسی نے کہا کہ جن لوگوں پر”غیرقانونی تارکین وطن“ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے، ان میں سے بیشترسب سے غریب لوگ ہیں۔ جھگی-جھونپڑیوں میں رہنے والے، صفائی ملازم، گھریلو کام کرنے والے، کوڑا بیننے والے لوگ ہیں۔ انہیں باربار نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ پولیس اور ظالموں کی مخالفت کرنے کی صورتحال میں نہیں ہیں۔ پولیس کے پاس کسی شخص کو صرف اس لئے حراست میں لینے کا اختیار نہیں ہے کیونکہ وہ کوئی خاص زبان بولتا ہے۔
وزارت داخلہ کے حکم کے بعد ہو رہی ہے کارروائی
وزارت داخلہ کے حکم پرغیرقانونی طریقے سے ہو رہے روہنگیا اور بنگلہ دیشی تارکین وطن کے خلاف پولیس نے جامع مہم شروع کی ہے۔ اس کارروائی کے تحت مشتبہ تارکین وطن کی پہچان کی جا رہی ہے اور انہیں حراست میں لے کرہولڈنگ سینٹروں میں بھیجا جا رہا ہے۔ پولیس ان سینٹروں میں حراست میں لئے گئے لوگوں کی جانچ کررہی ہے۔ غیرقانونی پائے جانے پران کو ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
