Urdu Conclave 2026

bengali muslims

بنگالی مسلمانوں پر استحصال کے موضوع پر نوید حامد نے کہا کہ سب سے پہلی ذمہ داری بنگال حکومت کی ہے، لیکن بنگال حکومت نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ لیکن آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی لیگل ٹیم اس موضوع پر کام کر رہی ہے تاکہ عدالت جانے سے پہلے تمام تیاریاں مکمل کرلی جائیں۔

سماجی تنظیم ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران گڑگاؤں میں 200 سے زائد افراد کو غیرقانونی طورپرحراست میں لیا گیا ہے۔ زیادہ ترافراد کا تعلق مغربی بنگال سے ہے اوریہ لوگ دہائیوں سے تعمیرات، گھریلوکام، فیکٹریوں، صفائی، ری سائیکلنگ اور ڈرائیوری جیسے شعبوں میں کام کرکے شہرکی معیشت میں اہم کردارادا کررہے ہیں۔

اسدالدین اویسی نے پولیس کی کارروائی پرسوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے کئی حصوں میں پولیس بنگالی بولنے والے مسلم شہریوں کو حراست میں لے رہی ہے۔ پولیس کی طرف سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ بنگلہ دیشی ہیں۔ بندوق کی نوک پربنگالی لوگوں کو بنگلہ دیش بھیجنے والی خبریں پریشان کررہی ہیں۔

وہیں ضلعی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت نے بے دخلی مہم شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے مکانات چھوڑ دیے تھے اور نقل مکانی کر چکے تھے۔

مغربی بنگال حکومت نے کہا کہ 36 سالہ محبوب شیخ کو زبردستی بنگلہ دیش بھیجا گیا، حالاں کہ مغربی بنگال پولیس اور ریاست کے مائیگرنٹ ویلفیئر بورڈ نے یہ ثابت کرنے والے دستاویزات پیش کیے کہ وہ ہندوستانی شہری ہے۔

سال 2004میں 34 مسلمان لوک سبھا جیت کر پارلیمنٹ پہنچے، جب کہ 2009 میں یہ تعداد 30 تھی، لیکن 10 سالوں میں اس تعداد میں کمی آئی ہے۔گزشتہ 2004میں این ڈی اے اتحاد نے تقریباً 20 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا۔ یو پی اے کی طرف سے 50 امیدواروں کو نامزد کیا گیا تھا۔

سی ایم سرما نے مزید کہا کہ اگر آپ مقامی کہلانا چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کو مدرسوں میں بھیجنے کے بجائے انہیں پڑھائیں اور ڈاکٹر اور انجینئر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنا شروع کریں اور انہیں ان کے والد کی جائیداد پر حق ملنا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، "یہ ان کے اور ریاست کے باشندوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ اگر وہ ان طریقوں کو ترک کر دیں اور آسامی لوگوں کی ثقافت کو اپنا لیں تو وہ بھی مقامی بن سکتے ہیں۔"

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے  ٗ فرٹیلائزر جہاد ْ کے نام سے ایک نیا فقرہ تیار کیا ہے، جس کا بظاہر مقصد ریاست کی بنگالی مسلمانوں کی آبادی پر نشانہ لگانا ہے۔ آسام  کو کھروپیٹیا اور دلگاؤں میں رہنے والی ایک بڑی آبادی سے "کیمیائی اور حیاتیاتی حملے" کا خطرہ ہے۔