حکومتِ ہند نے آیورویدک ادویات کے نظام کی عالمی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت میں وزارت آیوش اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے درمیان 24 مئی کو ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ معاہدہ انٹرنیشنل کلاسیفیکیشن آف ہیلتھ انٹروینشنز (ICHI) کے تحت روایتی دواؤں کے ایک مخصوص ماڈیول پر کام کے آغاز کی نشان دہی کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے ’’من کی بات‘‘ میں دی خوش خبری
من کی بات کے 122ویں ایپی سوڈ کے دوران اس پیش رفت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’’آیوروید کے میدان میں بھی کچھ ایسا ہوا ہے، جس کے بارے میں جان کر آپ کو بہت خوشی ہوگی۔ ابھی کل 24 مئی کو، WHO کے ڈائریکٹر جنرل اور میرے دوست تلسی بھائی کی موجودگی میں ایک ایم او یو پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے ساتھ ہی بین الاقوامی درجہ بندی کے تحت روایتی ادویات کے ایک مخصوص ماڈیول پر کام شروع ہو گیا ہے۔ اس اقدام سے آیوش کو سائنسی طریقے سے دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔‘‘
روایتی ادویات کے ماڈیول کی شمولیت کے ساتھ آیوروید، یوگا، سدھا اور یونانی نظاموں سے علاج – جیسے کہ پنچکرما، یوگا تھراپی، یونانی طریقہ کار، اور سدھا طریقہ کار کو اب عالمی سطح پر معیاری اصطلاحات کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ اس سے متعدد فوائد حاصل ہوں گے، جیسے کہ آیوش خدمات کے لیے شفاف بلنگ اور منصفانہ قیمت۔ ہیلتھ انشورنس کوریج میں آیوش علاج کا ہموار انضمام۔ بہتر اسپتال کا انتظام، طبی دستاویزات اور صحت کی تحقیق۔ اور سب سے اہم یہ کہ آیوش کی عالمی رسائی۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی کیا خوشی کا اظہار
یہ پیش رفت سائنسی درجہ بندی اور بین الاقوامی معیارات کی حمایت سے عالمی صحت کی دیکھ بھال کے مرکزی دھارے میں روایتی دواؤں کے اپنے بھرپور ورثے کو شامل کرنے کے ہندوستان کے وژن کے مطابق ہے۔ اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے سوشل میڈیا پیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ’’ہندوستان کی طرف سے @moAyush کے سکریٹری ویدیا راجیش کوٹیچا کے ساتھ، روایتی ادویات اور صحت کی بین الاقوامی درجہ بندی پر @WHO کے کام کے لیے 3 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے پر دستخط کرنے پر خوشی ہوئی۔‘‘ یہ پیش رفت ہندوستان کے روایتی نظاموں کے ذریعے سستی، قابل رسائی، اور قابل اعتماد صحت کی دیکھ بھال کی طرف ایک تبدیلی کا قدم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


