نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے ملک کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں 2019 سے اب تک 36 ممالک سے 274 مفرور مجرموں کو بھارت واپس لایا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یو پی اے حکومت کے دور میں اوسطاً سالانہ صرف چار مفرور ملزمان کو ہی واپس لایا جا سکا تھا۔ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مضبوط اور محفوظ بھارت کے وژن کے تحت حکومت نے بیرونِ ملک چھپے مفرور مجرموں کے خلاف مربوط، انٹیلی جنس پر مبنی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کارروائیاں شروع کیں۔ انہوں نے کہا کہ اب چاہے کوئی بھی مجرم دنیا کے کسی بھی ملک میں کیوں نہ فرار ہو جائے، بھارت کی نئی قومی سلامتی کی پالیسی اسے قانون کے شکنجے تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
’نئے بھارت‘ نے نظام کی خامیاں دور کر دیں
وزیر داخلہ نے کہا ’’وہ دور گزر گیا جب مجرم نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو جاتے تھے۔ نئے بھارت نے نئے قوانین، مضبوط اداروں اور عالمی شراکت داری کے ذریعے پرانے نظام کی ہر کمزوری کو دور کرتے ہوئے ایسا مضبوط حفاظتی جال بچھایا ہے جسے توڑنا ممکن نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے تین نئے فوجداری قوانین میں غیر حاضری میں مقدمہ چلانے (Trial in Absentia) کی شق شامل کی ہے، جس کے باعث مفرور ملزمان کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں بھی قانونی کارروائی ممکن ہو گئی ہے۔
پی ایم ایل اے کے تحت ہزاروں کروڑ کی جائیدادیں ضبط
امت شاہ نے بتایا کہ انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (PMLA) کے سخت نفاذ کے نتیجے میں مفرور ملزمان کے 17,874 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ضبط کیے گئے، جبکہ 18,762 کروڑ روپے کی رقم اقتصادی جرائم سے متعلق مقدمات میں واپس دلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پول (BHARATPOL) جیسے نئے نظام نے دنیا بھر کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنایا ہے، جس سے دنیا کا ہر خطہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے قابلِ رسائی ہو گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے اعداد و شمار
مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق 2019 سے 2026 کے درمیان واپس لائے گئے 274 مفرور ملزمان میں دہشت گرد، گینگسٹر، مالیاتی جرائم اور منشیات سے متعلق مقدمات کے ملزمان کے علاوہ قتل، عصمت دری اور بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ (POCSO) قانون کے تحت مطلوب افراد بھی شامل ہیں۔ وزارت نے مزید بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران 501 ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے گئے۔ ان میں 2022 میں 40، 2023 میں 100، 2024 میں 107، 2025 میں 112 اور صرف 2026 میں اب تک 182 ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

