نئی دہلی: سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس بی آرگوئی پرجوتا پھینکنے والے وکیل راکیش کشورکی دہلی کے کڑکڑڈوما کورٹ میں وکلا نے چپلوں سے پٹائی کردی ہے۔ واضح رہے کہ وکیل راکیش کشور، جنہوں نے حال ہی میں سابق چیف جسٹس بی آرگوئی پرجوتا پھینک کرہنگامہ کیا تھا، انہیں بی آرگوئی نے معاف کردیا تھا۔ تاہم کورٹ کیمپس میں ہی کچھ وکلا نے انہیں چپلوں سے پیٹ دیا۔
یہ حادثہ تب پیش آیا جب راکیش کشور عدالت میں موجود تھے، تبھی کچھ وکلا نے ان پرحملہ کردیا۔ راکیش پر دھکا مکی اورچپلوں سے حملہ کیا گیا۔ بڑی مشکل سے کورٹ میں موجود سیکورٹی اہلکاروں نے بیچ بچاو کرکے انہیں باہرنکالا۔
सीजीआई गवई जी के ऊपर जूते से हमला करने वाला राकेश किशोर के ऊपर भी किसी ने जूते से हमला किया और ये काम करके बहुत अच्छा किया…
जूते से मार खा लेंगे गोबर खा लेंगे नाली का पानी पी लेंगे लेकिन सनातन धर्म का अपमान नहीं सहेंगे।😂😂 (Rakesh kishore..)
ये महान काम करने वाले व्यक्ति को… pic.twitter.com/xc5yjiDtze— Nishu Aazad (@Nishuazad11) December 9, 2025
بارکاونسل نے کیا تھا معطل
راکیش کشور کو بی آرگوئی پرجوتا پھینکنے کے بعد بارکاونسل نے انہیں معطل کردیا تھا۔ راکیش کشورنے تمام مذمت کے بعد بھی کہا تھا کہ انہیں اپنے کئے پرکوئی افسوس نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھگوان (خدا) نے خواب میں آکرانہیں یہ کام کرنے کے لئے کہا تھا۔ راکیش کشورایک سینئروکیل ہیں، جو دہلی بارکاونسل میں 2009 سے رجسٹرڈ ہیں۔ ان کی عمرتقریباً 72-71 سال بتائی جارہی ہے۔ بارکاونسل آف انڈیا کی معطلی کے بعد وہ آگے کی کارروائی تک کوئی بھی کیس نہیں لڑسکتے ہیں۔
بی آرگوئی پرجوتا پھینکنے کا معاملہ
اسی سال 6 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے کورٹ نمبر-1 میں ایک سماعت کے دوران راکیش کشورنے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) بی آرگوئی پرجوتا پھینکنے کی کوشش کی۔ یہ حادثہ صبح تقریباً 11:35 بجے ہوا، جب سماعت کھجراہو(مدھیہ پردیش) کے جواری مندرمیں بھگوان وشنو کی سرکٹی مورتی کے دوبارہ لگائے جانے سے متعلق معاملے پر چل رہی تھی۔ راکیش کشورنے جوتا نکال لیا، اورپھینک دیا، لیکن محتاط سیکورٹی اہلکاروں اور آس پاس کے وکلا نے انہیں فوراً پکڑلیا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
