Bharat Express DD Free Dish

Fake Call Centre Busted-16 Arrested: نوئیڈا میں جعلی کال سینٹر کا پردہ فاش، غیر ملکی شہریوں سے ڈالر میں ٹھگی کرنے والے 16 ملزمان گرفتار

پولیس حکام کے مطابق ملزمان انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پیڈ اشتہارات کے ذریعے جعلی کسٹمر کیئر نمبرز جاری کرتے تھے۔ ان نمبرز کو ٹیک سپورٹ یا آفیشل ہیلپ لائن کے طور پر پیش کیا جاتا تھا تاکہ غیر ملکی شہری ان پر اعتماد کریں۔ جیسے ہی کوئی متاثرہ شخص ان نمبروں پر کال کرتا، وہ براہ راست کالنگ سافٹ ویئر کے ذریعے ملزمان کے سسٹم سے منسلک ہو جاتی تھی۔

نوئیڈا: سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان نوئیڈا پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے والے ایک جعلی کال سینٹر کا پردہ فاش کیا ہے۔ سیکٹر-16 نوئیڈا میں چل رہے اس غیر قانونی کال سینٹر سے 16 افراد کو جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا ہے، جو کمرشل ٹیک سپورٹ اور کسٹمر کیئر کے نام پر بیرون ملک شہریوں سے ڈالر میں بھاری رقم وصول کرتے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پیڈ اشتہارات کے ذریعے جعلی کسٹمر کیئر نمبرز جاری کرتے تھے۔ ان نمبرز کو ٹیک سپورٹ یا آفیشل ہیلپ لائن کے طور پر پیش کیا جاتا تھا تاکہ غیر ملکی شہری ان پر اعتماد کریں۔ جیسے ہی کوئی متاثرہ شخص ان نمبروں پر کال کرتا، وہ براہ راست کالنگ سافٹ ویئر کے ذریعے ملزمان کے سسٹم سے منسلک ہو جاتی تھی۔ تحقیقات کے مطابق ملزمان خود کو ٹیکنیکل سپورٹ ایجنٹ ظاہر کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو یہ باور کراتے تھے کہ ان کا کمپیوٹر یا موبائل ہیک ہو چکا ہے۔ اعتماد جیتنے کے لیے وہ متاثرین کو اسکرین شیئرنگ ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے پر آمادہ کرتے تھے، جس کے ذریعے وہ ان کے سسٹم تک ریموٹ رسائی حاصل کر لیتے تھے۔ اس کے بعد کمپیوٹر اسکرین کو بلیک کر کے خوف و ہراس پیدا کیا جاتا تھا، جس سے متاثرہ افراد گھبرا کر ان کی باتوں میں آ جاتے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان مسئلہ حل کرنے کے بہانے متاثرین سے 100 سے 500 ڈالر تک کی رقم وصول کرتے تھے۔ اگر کسی متاثرہ کے اکاؤنٹ میں زیادہ رقم موجود ہوتی تو کال کو سینیئر ٹھگوں کو منتقل کر دیا جاتا تھا، جو مزید بڑی رقم ہتھیانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس دوران مائیک اور ہیڈفون کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ اردگرد کی آواز متاثرہ تک نہ پہنچ سکے اور پورا عمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا جا سکے۔ ڈی سی پی سائبر کرائم شیویہ گوئل نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی شناخت وویک ٹھاکر، گورو سنگھ، گورو گپتا، ابھیشیک، اشونی کمار، روہن شرما، سنت کمار، اپیندر سنگھ عرف روہت سنگھ، انکُش چورسیا، آیوش چوبے، سدِیپ سنگھ، انوپم سکسینہ، ابھیشیک موریہ، شیوم پاٹھک، پردیپ کمار سنگھ اور ورون گپتا کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ تمام افراد نوئیڈا، دہلی، غازی آباد اور پنجاب کے رہائشی ہیں۔

پولیس نے موقع سے بڑی مقدار میں الیکٹرانک آلات بھی برآمد کیے ہیں، جن میں 4 لیپ ٹاپ، 15 ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، 15 مانیٹر، 16 موبائل فون، 16 مائیک-ہیڈفون، دو راؤٹر اور ایک موڈیم شامل ہیں۔ ان آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا میں کروڑوں روپے کے لین دین کے شواہد ملے ہیں، جو اس نیٹ ورک کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر کے حوالہ چینلز کے ذریعے وصول کرتے تھے، تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ اس پورے نیٹ ورک کو دہلی کے رہائشی ورون گپتا چلا رہا تھا، جسے اس گروہ کا مرکزی کردار بتایا جا رہا ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں بی این ایس کی مختلف دفعات اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تمام ملزمان تعلیم یافتہ ہیں اور انہیں انگریزی زبان پر اچھی گرفت حاصل ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر وہ غیر ملکی شہریوں کو آسانی سے اپنے جال میں پھنسا لیتے تھے۔ پولیس اب اس گینگ کے ماسٹر مائنڈ، فنڈنگ کے ذرائع اور بین الاقوامی روابط کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں، کیونکہ ابتدائی تحقیقات میں ایک بڑے نیٹ ورک کے شواہد ملے ہیں۔ سائبر ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر معروف نمبروں یا آن لائن اشتہارات کے ذریعے فراہم کیے جانے والے کسٹمر کیئر نمبرز پر اعتماد نہ کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read