کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ان کے پاس ووٹ چوری کے ثبوت کاایٹم بم ہے اور جب وہ اسے پھوڑیں گے تو الیکشن کمیشن کہیں نظر نہیں آئے گا۔ دراصل راہل الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری کا سنگین الزام لگا رہے ہیں۔ راہل کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن نے مدھیہ پردیش سے مہاراشٹر اور کرناٹک سے بہار تک ووٹر لسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے۔تاہم آج (جمعہ) بہار میں ایس آئی آر کے عمل کے بعد ڈرافٹ رول جاری کر دیا گیا ہے۔ بہار کا کوئی بھی ووٹر جس کو لگتا ہے کہ اس کے نام میں کوئی غلطی ہو سکتی ہے وہ خود بھی اپنا نام آن لائن چیک کر سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں تصحیح کے لیے یکم ستمبر تک کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔
ادھر دوسری طرف راہل گاندھی 5 اگست کو بنگلورو میں الیکشن کمیشن کے ذریعے ووٹ چوری پر مبنی ثبوت بم پھوڑنے والے ہیں۔ پھر 9 اگست سے بہار میں ایس آئی آر اور نئی ووٹر لسٹ کو لے کر ایک بڑی سیاسی جدوجہد شروع کرنے والے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے کو سیاسی لڑائی میں گھسیٹا جا رہا ہے؟ راہل کے پاس کونسا ایٹم بم ہے؟ کیا راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کو دھمکی دینے کی کوشش کی ہے؟ راہل گاندھی کا دعویٰ ہے کہ 6 ماہ کی محنت سے یہ ثبوت جمع کیا گیا ہے۔
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، لیکن جو ایٹم بم انہوں نے کرناٹک میں 6 ماہ کی محنت سے بنایاہے، اب وہ کمیشن کے افسران پر ہی پھٹیں گے۔ ‘ایٹم بم’ کب اور کہاں پھٹے گا؟ تاریخ طے ہے – 5 اگست جگہ مقرر ہے – بنگلورو مقام – کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر پر راہل گاندھی پریس کانفرنس کرکے ثبوت پیش کریں گے۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں ووٹ چوری ثابت کرنے کے لیے بنگلورو دیہی لوک سبھا سیٹ کی ووٹر لسٹ کا خصوصی مطالعہ کیا گیا ہے۔ مہادیو پورہ اور گاندھی نگر اسمبلی حلقوں میں ہزاروں نئے ووٹروں کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں 45، 50، 60، 65 سال ہیں۔حالانکہ کرناٹک الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے رائے دہندوں کی خصوصی نظر ثانی کی گئی تھی۔ ڈرافٹ رول کے بعد 9 لاکھ 17 ہزار اعتراضات درج کیے گئے، لیکن کانگریس نے اس وقت کوئی شکایت نہیں کی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
