لکھنؤ: اتر پردیش مدھیامک شکشا پریشد (یوپی ایم ایس پی) کی جانب سے سال 2026 کے بورڈ امتحانات میں شامل ہونے والے لاکھوں طلباء کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ بورڈ نے امتحانی کاپیوں کی جانچ کے طریقہ کار میں دو اہم اور انقلابی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن سے طلباء کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ نئے نظام کے تحت نہ صرف طلباء کے نمبر دینے کے طریقے میں شفافیت آئے گی بلکہ نتیجوں میں ہونے والی غلطیوں اور شکایات میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔ بورڈ حکام کے مطابق اس سال سے امتحانی کاپیوں کی جانچ کے عمل میں مرحلہ وار نمبر دینے یعنی ”اسٹیپ مارکنگ“ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ یہ طریقہ کار پہلے سے سی بی ایس ای میں رائج ہے اور اب یوپی بورڈ بھی اسی طرز پر طلباء کی کاپیوں کا جائزہ لے گا۔ اس تبدیلی کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کی محنت ضائع نہ ہو اور انہیں ہر درست مرحلے پر مناسب نمبر مل سکیں۔
عام طور پر طلباء کو ریاضی اور سائنس کے سوالات میں سب سے زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماضی میں ایسا ہوتا تھا کہ اگر کسی طالب علم نے سوال کے زیادہ تر حصے درست حل کیے ہوں لیکن آخری مرحلے میں معمولی حسابی غلطی ہو جائے تو پورا سوال غلط قرار دے دیا جاتا تھا اور طالب علم کو صفر نمبر ملتے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بہت سے طلباء کے مجموعی نمبر متاثر ہو جاتے تھے۔ نئے اسٹیپ مارکنگ نظام کے تحت اب ایسا نہیں ہوگا۔ اگر کسی سوال کے پانچ نمبر ہیں اور طالب علم نے اس کے تین مراحل درست لکھے ہیں تو اسے کم از کم تین نمبر ضرور دیے جائیں گے۔ اس طرح طلباء کے لیے پاس ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور ان کی محنت کا مناسب صلہ بھی ملے گا۔ بورڈ نے امتحانی کاپیاں جانچنے والے اساتذہ کو واضح ہدایات دی ہیں کہ وہ طلباء کے ہر درست مرحلے کو اہمیت دیں اور نمبر دینے میں احتیاط اور انصاف کو یقینی بنائیں۔
اسی کے ساتھ یوپی بورڈ نے امتحانی کاپیوں کی جانچ کے نظام کو جدید بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اب کاپیوں کی روایتی طریقے سے جانچ کے بجائے آن لائن اور ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس عمل کے تحت طلباء کی جوابی کاپیوں کو پہلے اسکین کیا جائے گا اور پھر انہیں ڈیجیٹل فارمیٹ میں سرور پر اپ لوڈ کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اساتذہ کمپیوٹر اسکرین پر ان کاپیوں کو دیکھ کر نمبر درج کریں گے۔ آن لائن چیکنگ سسٹم کے کئی فوائد بتائے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نمبر جمع کرنے میں ہونے والی انسانی غلطیوں کا امکان تقریباً ختم ہو جائے گا۔ ماضی میں اکثر شکایات سامنے آتی تھیں کہ طلباء کے حاصل کردہ نمبر صحیح طور پر جمع نہیں کیے گئے یا کسی سوال کے نمبر شامل کرنا رہ گئے۔ ڈیجیٹل نظام میں نمبر خودکار طور پر محفوظ ہو جائیں گے جس سے ایسی غلطیوں کی گنجائش کم ہو جائے گی۔
دوسرا اہم فائدہ یہ ہوگا کہ جیسے ہی استاد نمبر درج کرے گا وہ براہ راست بورڈ کے مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ ہو جائیں گے۔ اس سے نتائج تیار کرنے کا عمل بھی تیز ہو جائے گا اور طلباء کو اپنا رزلٹ جلد مل سکے گا۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے امتحانی نظام زیادہ شفاف اور قابل اعتماد بنے گا۔ بورڈ حکام کے مطابق ڈیجیٹل چیکنگ سے دھاندلی اور جانبداری کے امکانات بھی کم ہوں گے کیونکہ حکام کسی بھی وقت آن لائن نظام کے ذریعے یہ دیکھ سکیں گے کہ کس استاد نے کس طرح نمبر دیے ہیں۔ اس اقدام سے خاص طور پر ان ہونہار طلبہ کو فائدہ ہوگا جو اکثر یہ شکایت کرتے تھے کہ ان کی کاپی صحیح طرح سے نہیں دیکھی گئی۔ اس نئے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ریاست کے مختلف اضلاع میں موجود جانچ مراکز کو جدید سہولیات سے لیس کیا جا رہا ہے۔ کمپیوٹر لیب، ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سسٹم تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ امتحانی کاپیوں کی جانچ تیزی اور شفافیت کے ساتھ مکمل کی جا سکے۔ بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے امتحانی نظام میں بہتری آئے گی اور طلبہ کو ان کی محنت کا پورا حق مل سکے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



