انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے منگل کو نیشنل ہیرالڈ منی لانڈرنگ کے مبینہ معاملے میں کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ دہلی کے راؤز ایونیو کورٹ میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں انڈین اوورسیز کانگریس کے سربراہ سام پتروڈا، سُمن دوبے اور دیگر کا نام بھی شامل ہے۔ عدالت اس معاملے کی سماعت 25 اپریل کو کرے گی۔
اس سے قبل 11 اپریل کو ای ڈی نے دہلی، ممبئی اور لکھنؤ میں ان جائیداد کے رجسٹراروں کو نوٹس جاری کیا، جہاں ینگ انڈیا لمیٹڈ (YIL) کے ذریعے حاصل کیے گئے ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (AJL) کے اثاثے واقع ہیں۔ ای ڈی کے مطابق یہ پیش رفت ان تحقیقات کے بعد ہے جن میں اے جے ایل کے اثاثوں سے منسلک 988 کروڑ روپے کے جرم کی رقم کی مبینہ لانڈرنگ کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب حال ہی میں ایک ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی نے جائیدادوں کی پہلے سے عارضی اٹیچمنٹ کی تصدیق کی۔
جانیے اس کیس کی مختصر تاریخ
ای ڈی کی تحقیقات جو 2021 میں باضابطہ طور پر شروع ہوئی، دہلی کی ایک عدالت میں 2014 میں بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی طرف سے دائر کی گئی شکایت سے شرع ہوئی تھی۔ شکایت میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور کانگریس کے دیگر سینئر لیڈروں پر الزام لگایا گیا ہے کہ YIL کے ذریعے 50 لاکھ روپے کی معمولی رقم میں وہ AJL کی جائیدادوں پر دھوکہ دہی سے قبضہ کر رہے تھے۔
قانونی چیلنجز کے باوجود دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں نے تحقیقات کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی تھی۔تحقیقات کے دوران ای ڈی نے متعدد مقامات پر تلاشی اور ضبطی کی اور مالی بے ضابطگیوں کی طرف اشارہ کرنے والے دستاویزات کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا۔ واضح رہے کہ کہ نیشنل ہیرالڈ ایک اخبار تھا جسے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم اور کانگریس لیڈر جواہر لعل نہرو نے 1938 میں دیگر آزادی پسندوں کے ساتھ مل کر قائم کیا تھا۔ AJL کی طرف سے شائع کیا جانے والے یہ اخبار 1947 میں آزادی کے بعد پارٹی کا ماؤتھ پیس بن گیا۔ AJL نے دو دیگر اخبارات بھی شائع کیے، ایک ہندی اور ایک اردو میں۔ 2008 میں یہ اخبار 90 کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کے ساتھ بند ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

