آسام میں پیر کی صبح 5 جنوری 2026 کو علی الصبح زلزلے کے تیز جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے لوگ گھبرا کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا مرکز آسام کے مورگاؤں ضلع میں تھا اور اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.1 ناپی گئی۔ زلزلہ صبح تقریباً 4 بج کر 17 منٹ پر آیا، اس وقت زیادہ تر لوگ گہری نیند میں تھے۔آسام کے ساتھ ساتھ میگھالیہ، اروناچل پردیش اور شمال مشرقی بھارت کے دیگر حصوں میں بھی زلزلے کے اثرات دیکھے گئے۔ زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 50 کلومیٹر نیچے تھا، جس کی وجہ سے جھٹکے دور دراز علاقوں تک محسوس کیے گئے۔ کہیں ہلکی لرزش تو کہیں نسبتاً تیز کمپن محسوس ہوا، جس سے عوام میں خوف کا ماحول بن گیا۔
فی الحال راحت کی بات یہ ہے کہ اس زلزلے کے باعث کسی جانی نقصان یا بڑے مالی خسارے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور آفاتِ سماوی سے نمٹنے والے ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حساس علاقوں سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور مکمل طور پر ہوشیار رہیں۔ ماہرین کے مطابق زلزلہ زدہ اور زلزلہ خیز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ہمیشہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
آسام کو بھارت کے سب سے زیادہ زلزلہ حساس علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس خطے میں ماضی میں کئی تباہ کن زلزلے آ چکے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ بھارتی پلیٹ اور یوریشیائی پلیٹ کا آپس میں ٹکراؤ ہے، جس کے باعث زمین کے نیچے مسلسل ہلچل رہتی ہے اور بار بار زلزلے آتے ہیں۔تاریخ پر نظر ڈالیں تو 12 جون 1897 کو آنے والا شیلانگ زلزلہ آسام اور پورے شمال مشرقی بھارت کے لیے ایک خوفناک سانحہ ثابت ہوا تھا۔ اس زلزلے کی شدت 8 سے زائد تھی، جس میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے اور بڑی تعداد میں مکانات، سڑکیں اور عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ اس زلزلے کا اثر اتنا شدید تھا کہ کلکتہ جیسے دور دراز شہروں تک اس کی تباہی کے آثار دیکھے گئے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
