نئی دہلی: ایکسچینج4میڈیا (e4m) نے نئی دہلی میں ’اردو جرنلزم 40 انڈر 40 کانکلیو اینڈ ایوارڈز‘ کا کامیاب انعقاد کیا، جہاں ملک بھر سے اردو صحافت کے سینئر مدیران، مصنفین، پالیسی سازوں اور ابھرتے ہوئے صحافیوں نے شرکت کی۔ دن بھر جاری رہنے والے اس کانکلیو میں اردو صحافت کے موجودہ چیلنجز، ڈیجیٹل دور میں اس کی بقا، عوامی اعتماد اور نئی نسل کو اردو صحافت سے جوڑنے جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اختتام پر 40 سال سے کم عمر نمایاں صحافیوں کو ’40 انڈر 40 ایوارڈز‘ سے نوازا گیا۔
اردو صحافت کی ساکھ اور ڈیجیٹل مستقبل پر زور
کانکلیو کا آغاز سینئر صحافی، ادیب، شاعر اور اداکار تحسین منور کے کلیدی خطاب سے ہوا، جنہوں نے موجودہ دور میں اردو صحافت کی اہمیت، اس کی سماجی ذمہ داری اور بدلتے میڈیا منظرنامے میں خود کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ’کیا اردو میڈیا آج بھی عوامی رائے تشکیل دیتا ہے؟‘ کے عنوان سے پینل مباحثہ منعقد ہوا، جس میں اردو اخبارات اور میڈیا کے اثر و رسوخ پر گفتگو کی گئی۔ اس کے بعد ’انصاف کی زبان: بھارتی عدالتوں میں اردو کی پائیدار میراث‘ کے عنوان سے خصوصی سیشن میں عدالتی نظام میں اردو کی تاریخی اور قانونی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
شناخت، حکمرانی اور نئی نسل کی شمولیت پر گفتگو
کانکلیو میں ’مودی دور میں اردو، شناخت اور حکمرانی‘ کے موضوع پر دہلی حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثر جہاں اور ایکسچینج4میڈیا و بی ڈبلیو بزنس ورلڈ کے سینئر ایڈیٹر روحیل امین کے درمیان خصوصی گفتگو ہوئی، جس میں اردو زبان سے وابستہ سماجی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں آزاد صحافی اور مصنفہ روہنی سنگھ نے خصوصی خطاب کیا، جبکہ آخری پینل مباحثہ ’کیا اردو صحافت نئی نسل کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے؟‘ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ مقررین کا اتفاق تھا کہ اردو صحافت کی ساکھ آج بھی مضبوط ہے، تاہم اس کی بقا کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر موجودگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کاروباری خبروں، سرمایہ کاری سے متعلق ہفتہ وار پروگراموں اور جدید موضوعات کو اردو میڈیا کا حصہ بنانے پر زور دیا۔ ساتھ ہی اردو کو تعلیمی اداروں میں اختیاری مضمون کے طور پر متعارف کرانے اور اس کی ہمہ گیر، سیکولر اور مشترکہ تہذیبی شناخت کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
’زبان نہیں مرتی، صرف اس کا ذریعہ بدلتا ہے‘
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر انوراگ بترا، چیئرمین و ایڈیٹر اِن چیف، BW Businessworld اور بانی exchange4media نے کہا کہ اردو صحافت ہمیشہ اپنے منفرد اسلوب، شائستگی اور معتبر صحافتی روایت کی وجہ سے نمایاں رہی ہے۔ ان کے مطابق زبان کبھی پرانی نہیں ہوتی، بلکہ وقت کے ساتھ نئے قارئین اور نئے ذرائع اختیار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جن نوجوان صحافیوں کو اعزاز سے نوازا گیا، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو صحافت نئی نسل کے ساتھ قدم ملا کر آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

