سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے پیر کے روز تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے وزیر اعلی ریونتھ ریڈی کے خلاف دائر کی گئی ہتک عزت کی درخواست کو خارج کر دیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران ریڈی کے مبینہ توہین آمیز بیان پر درج کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس بی آر گوئی، جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس اتل چندورکر پر مشتمل بنچ نے بی جے پی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف عدالتی نظام کا استعمال نہ کرے۔
عدالت نے کہا کہ ’’ایک سیاست دان میں تنقید برداشت کرنے کی زبردست صلاحیت ہونی چاہیے۔‘‘ عدالت کے یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب عدالت بی جے پی کی طرف سے دائر اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں یکم اگست کو ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ بی جے پی کی تلنگانہ یونٹ نے اپنے ریاستی جنرل سیکریٹری کے توسط سے ریونتھ ریڈی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے کانگریس کے ساتھ مل کر ایک جھوٹا سیاسی بیانیہ تشکیل دیا کہ اگر بی جے پی کو عام انتخابات میں 400 نشستیں ملتی ہیں تو وہ ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن ختم کر دے گی۔
اس مقدمے میں اگست 2024 میں ایک ٹرائل کورٹ نے ریونتھ ریڈی کو نوٹس جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خلاف ابتدائی طور پر مقدمہ بنتا ہے۔ اس کے بعد ریڈی نے ہائی کورٹ سے رجوع کر کے مقدمہ منسوخ کرنے کی درخواست دی تھی۔ ہائی کورٹ کے جسٹس کے لکشمن نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ریونتھ ریڈی کی تقریر بی جے پی کی قومی قیادت کے خلاف تھی، تلنگانہ یونٹ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ بی جے پی کے ریاستی جنرل سیکریٹری نے یہ شکایت بطور ایک فرد دائر کی، جب کہ مبینہ توہین براہ راست ان کے خلاف نہیں تھی۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس استدلال سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جب توہین کسی فرد یا ادارے کے خلاف براہ راست نہ ہو تو شکایت کنندہ مقدمہ دائر کرنے کا اہل نہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی لڑائیوں میں عدلیہ کو نہ گھسیٹیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


