Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi On Doklam: ڈوکلام پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ! راہل گاندھی کا حکومت پر سخت حملہ، جانئے 73 دنوں تک چلے اس تصادم کی مکمل کہانی

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن 2026 کے چوتھے دن لوک سبھا میں اس وقت زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا جب راہل گاندھی نے ڈوکلام تنازع کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔ صدر جمہوریہ کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے چین کے دباؤ میں آ کر بھارت کی ہزاروں ایکڑ زمین سرنڈر کر دی ہے۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن 2026 کے چوتھے دن لوک سبھا میں اس وقت زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا جب قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ڈوکلام تنازع کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔ صدر جمہوریہ کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے چین کے دباؤ میں آ کر بھارت کی ہزاروں ایکڑ زمین سرنڈر کر دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حقائق سابق آرمی چیف جنرل منوج نروَنے کی غیر شائع شدہ کتاب میں درج ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر سابق فوجی سربراہ کی کتاب کو شائع ہونے سے روک رہی ہے، کیونکہ اگر یہ کتاب منظرِ عام پر آ گئی تو عوام کو معلوم ہو جائے گا کہ جب چین سرحد پر کھڑا تھا تو ’’56 انچ کی چھاتی‘‘ کا دعویٰ کہاں غائب ہو گیا۔ ان کے اس بیان پر ایوان میں شدید شور شرابہ ہوا اور حکمراں جماعت کے ارکان نے سخت اعتراض درج کرایا۔

کیا تھا ڈوکلام معاملہ؟
راہل گاندھی کے بیان کے بعد ڈوکلام تنازع ایک بار پھر قومی بحث کا مرکز بن گیا۔ یہ وہ واقعہ ہے جس نے سنہ 2017 میں نہ صرف بھارت اور چین بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی تھی۔ یہ تصادم 73 دنوں تک جاری رہا اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی رہیں

ڈوکلام کا علاقہ جغرافیائی اور اسٹریٹجک اعتبار سے بھارت کے لیے بے حد اہم ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بھارت، بھوٹان اور چین کے زیرِ انتظام تبت کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ بھوٹان اس علاقے کو اپنی خودمختار زمین قرار دیتا ہے، جبکہ چین اسے اپنے ڈونگ لانگ علاقے کا حصہ مانتا ہے۔ بھارت، بھوٹان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اس کی سلامتی کا ضامن ہے، اسی لیے ڈوکلام میں کسی بھی چینی سرگرمی کو بھارت اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔

بھارت کے لیے بہت اہم ہے ڈوکلام
بھارت کے لیے ڈوکلام اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ یہ مقام سلی گوڑی کوریڈور، جسے عام طور پر ’’چکن نیک‘‘ کہا جاتا ہے، کے قریب واقع ہے۔ یہ کوریڈور بھارت کے شمال مشرقی ریاستوں کو باقی ملک سے جوڑتا ہے۔ اگر چین یہاں اپنی موجودگی مضبوط کر لیتا تو کسی بھی جنگ یا کشیدگی کی صورت میں وہ اس کوریڈور کو کاٹ کر شمال مشرقی بھارت کو الگ تھلگ کر سکتا تھا۔

کیا تھا وہ واقعہ؟
ڈوکلام تنازع کی ابتدا 16 جون 2017 کو ہوئی، جب چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے وہاں ایک پرانی سڑک کی مرمت اور توسیع کا کام شروع کیا۔ بھاری مشینری اور فوجی دستوں کے ساتھ جاری اس تعمیر پر بھوٹان نے اعتراض کیا، لیکن چین نے اسے نظر انداز کر دیا۔ اس کے بعد بھارت نے 18 جون 2017 کو مداخلت کرتے ہوئے تقریباً 300 بھارتی فوجیوں کو ڈوکلام بھیجا، جنہوں نے چینی تعمیراتی سرگرمیوں کو روک دیا۔

اس اقدام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہو گیا۔ اگرچہ اگلی صف میں سیکڑوں فوجی آمنے سامنے تھے، مگر پسِ منظر میں دونوں جانب ہزاروں فوجیوں کو الرٹ رکھا گیا تھا۔ بھارت نے فضائی طاقت کو بھی تیار حالت میں رکھا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری جواب دیا جا سکے۔ یہ کشیدگی 16 جون سے 28 اگست 2017 تک جاری رہی۔ آخرکار دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے بعد ایکسپیڈیشن ڈس انگیجمنٹ پر اتفاق ہوا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت نے اپنے فوجی واپس بلائے اور چین نے بھی اپنے سپاہی اور تعمیراتی آلات وہاں سے ہٹا لیے۔ آج، آٹھ برس بعد، راہل گاندھی کی جانب سے اس معاملے کو دوبارہ پارلیمنٹ میں اٹھائے جانے سے ڈوکلام ایک بار پھر سیاسی اور اسٹریٹجک بحث کا مرکز بن گیا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید گرما گرم مباحثے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read