تحریر:چاروی اروڑا
کئی دہائیوں تک منشیات کے انسداد کی کوششیں عموماً ایک مانوس انداز پر حرکت پزیر رہیں ۔ حکام فصلوں پر نظر رکھتے، اسمگلنگ کے راستوں کی نگرانی کرتے، کھیپ پکڑتے اور سرحدوں کے پار منشیات منتقل کرنے والے منظم مجرمانہ گروہوںکو نشانہ بناتے۔فینٹانِل نے اس ماڈل کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
ہیروئن یا کوکین جیسی نباتاتی (پودوں سے حاصل ہونے والی) منشیات کے برعکسفینٹانِل ایک سِنتھیٹِک ڈرگ(کیمیائی طور پر تیار کردہ منشیات) ہےجو بڑی حد تک دوہر ے استعمال والے ابتدائی کیمیاوی مادّوں پر انحصار کرتی ہے۔ یہ وہ کیمیاوی مادّے ہیں جو ایک طرف تو جائز دوا سازی اور صنعتی منڈیوں میں استعمال ہوتے ہیں اور دوسری جانب فینٹانِل کی تیاری میں بھی کام آتے ہیں ۔ اس تبدیلی نے امریکہ میں ایک قومی بحران کو جنم دیا ہے۔ مصنوعی اوپی اوائیڈز (نشہ آور درد کُش ادویات)، جن میں بنیادی طور پر فینٹانِل شامل ہے، امریکہ میں منشیات کی زیادہ مقدار کے استعمال کے باعث ہونے والی تمام اموات کا 60 فی صد سبب بنتے ہیں اور ہر سال تقریباً 48 ہزار افراد کی جان لے لیتے ہیں۔نئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ میں تعینات امریکی محصول اور سرحدی حفاظتی فوج (سی بی پی ) کے ایک عہدیدار کے مطابق فینٹانِل کی نہایت معمولی مقدار (صرف دو میلی گرام )بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
نظر سے اوجھل رسد و ترسیل کا نظام
نئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ میں متعین امریکی محکمہ ٔ داخلی سلامتی (ایچ ایس آئی ) کے ایک عہدیدار کہتے ہیں ’’ہم ایک ایسی شئے کا سامنا کر رہے ہیں جسے تقریباً کہیں بھی تیار کیا جا سکتا ہے، انتہائی مرتکز شکلوں میں بنایا جا سکتا ہے، اور پھر انہیں عالمی تجارتی، مالیاتی اور مواصلاتی نظاموں کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے جو جائز تجارت کو ممکن بناتے ہیں۔‘‘ خیال رہے کہ محکمہ ٔ داخلی سلامتی امریکی محکمہ ٔ داخلی سلامتی کا سب سے اہم تحقیقاتی ادارہ ہے۔
اس صورت حال نے قابلِ عمل معلومات، تحقیقاتی سراغوں، اور ممکنہ اہداف کی تعداد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث سرحدی، مالیاتی، سائبر، اور بین الاقوامی ذرائع کو ایک مربوط حکمتعملی میں یکجا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
یہی حقیقت فینٹانِل کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقۂ کار کو نئی شکل دے رہی ہے۔ اب ادارے ابتدائی خام کیمیاوی مادّوں کے رسد و ترسیل کے نظام کی نشاندہی ، مالیاتی اور رسد و ترسیل کے نیٹ ورک کی نقشہ سازی ، ڈیجیٹل مواصلات کے تجزیے اور منشیات کے امریکی آبادیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی اسمگلنگ کے نظام کو درہم برہم کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
ایچ ایس آئی کے عہدیدارباخبر کرتے ہیں، ’’ہمارا کام اب صرف ضبطیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کا زیادہ تر زور ان کے پیچھے موجود تنظیموں اور سہولت کاروں کی منظم نشاندہی اور ان کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے پر ہے۔‘‘
یہ نظامی طریقۂ کار ’’نشان دہی کرنا اور ناکام بنانا‘‘ نامی قانون سازی کی تجاویز سے بھی تقویت پاتا ہے، جن کا مقصد حکام کی اس صلاحیت کو بڑھانا ہے کہ وہ رسد و ترسیل کے نظام میں معلومات کو نہ صرف یکجا کریں بلکہ شیئر بھی کریں۔
عالمی تجارت کے پس پردہ نیٹ ورک کی فعالیت
فینٹانِل کی اسمگلنگ کے بنیادی راستوں میں داخلی بندرگاہیں، بین الاقوامی ڈاک اور ایکسپریس کھیپ اور سمندری سرحدیں شامل ہیں ۔ سی بی پی کے عہدیدار بتاتے ہیں ’’اسے چھپانے کے طریقے بہت متنوع ہیں۔ یہ کبھی افراد کے ذریعے اور گاڑیوں میں بنائے گئے خفیہ خانوں میں منتقل کی جاتی ہے، تو کبھی جائز تجارتی مال(کارگو) میں چھپا دی جاتی ہے یا غلط لیبل لگا کر چھوٹے پارسلوں کی صورت میں بھیجی جاتی ہے۔‘‘
سی بی پی زیادہ خطرے والی کھیپوں کی نشاندہی کے لیے جامع حکمت عملیوں اور جدید ٹولز کا استعمال کرتی ہے۔ یہ ادارہ ایک جدید اور کثیرالجہتی نظام سے کام لیتا ہے جس میں خفیہ معلومات کا حصول، اعلیٰ درجے کی تجزیاتی صلاحیتیں، اور خصوصی معائنہ جاتی ٹیکنالوجیاں شامل ہیں۔
اس نظام کو مسلسل جدید ترین ٹیکنالوجیوں، بشمول مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ، کے ذریعے بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ ایسے پیچیدہ اشاریوں اور معائنوں کے نتائج کی نشاندہی کی جا سکے جو روایتی جانچ کے طریقوں سے بآسانی سامنے نہیں آتے۔ مزید برآں، سی بی پی مختلف اقسام کی کھیپوں سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے کے اپنے طریقۂ کار کو بھی بہتر بنا رہی ہے تاکہ پیچیدہ رسد و ترسیل کے نیٹ ورکس میں ممکنہ طور پر مشتبہ پارسلوں کی زیادہ مؤثر شناخت کی جا سکے۔
عہدیداروں کے مطابق اصل چیلنج خود فینٹانِل کی تیاری کی نوعیت سے پیدا ہوتا ہے۔ پوست یا کوکا کے نمایاں کھیتوں کے برعکس، فینٹانِل تیار کرنے والے افراد عالمی رسد و ترسیل کے ذرائع سے کیمیاوی مادّے حاصل کرتے ہیں ۔ وہ اکثر انہیں آن لائن آرڈر کرتے ہیں اور ایسی چھوٹی کھیپوں کی صورت میں بھیجتے ہیں جن کی تفصیلات غلط درج کی گئی ہوتی ہیں اور جو عام تجارتی سرگرمیوں میں باآسانی گھل مل جاتی ہیں۔
ایچ ایس آئی کے عہدیدار وضاحت کرتے ہیں’’اس کی دوہری استعمال کی خصوصیت حکام کے لیے جائز تجارت اور غیر قانونی سپلائی میں فرق کرنا مشکل بنا دیتی ہے، اور مخصوص کیمیا پر مؤثر ضابطہ کاری بھی اس طرح مشکل ہوجاتی ہے کہ جائز کاروبار متاثر نہ ہوں۔ ‘‘وہ مزید کہتے ہیں ’’جب ضوابط سخت کیے جاتے ہیں اسمگلر تیزی کے ساتھ متبادل ابتدائی خام کیمیاوی مادّوں کی جانب منتقل ہوجاتے ہیں ۔ ‘‘
نیٹ ورک کو نشانہ بنانا
اس بدلتے ہوئے ماڈل کے پیشنظر امریکی اداروں نے اپنی کارروائیوں کا طریقۂ کار تبدیل کر لیا ہے۔ سرحدوں پر تیار شدہ منشیات کی کھیپ پکڑنے پر توجہ مرکوز رکھنے کی بجائے اب ادارے اُن وسیع تر نظاموں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو فینٹانِل کی تیاری اوراس کی ترسیل کو ممکن بناتے ہیں۔
ایچ ایس آئی عہدیدار کہتے ہیں، ’’بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیمیں اُن مقامات پر سب سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں جہاں ان کا جائز نظاموں، مثلاً عالمی تجارت، مالیات، سفر، مواصلات، اور اشیا ءو افراد کی جسمانی نقل و حرکت، کے ساتھ ملاپ ہوتا ہے۔‘‘ ادارہ ان کا مسلسل جائزہ لیتا ہے تاکہ ابھرتی ہوئی کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکے اور تحقیقاتی اختیارات، جدید تجزیاتی صلاحیتوں، اور ملکی و بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے ان نیٹ ورکس پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
دوسری جانب، سی بی پی انٹیلی جنس، ڈیٹا کے تجزیے، اور تیز رفتار جانچ کے ذریعے رسد و ترسیل کے ابتدائی مراحل ہی میں زیادہ خطرے والی کھیپوں اور مسافروں کی نشاندہی کرتی ہے۔ سی بی پی عہدیدار کے مطابق ’’ادارہ فارورڈ آپریٹنگ لیبارٹریز جیسی جدید حکمت عملیاں اختیار کرتا ہے، جو موقع پر ہی ان کیمیاوی مادّوں کی فوری جانچ اور فینٹانِل کی جانچ کی سہولت فراہم کرتی ہیں، جس سے شناخت کا وقت ہفتوں کے بجائے منٹوں تک محدود ہو جاتا ہے۔‘‘ اس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے زیادہ تیزی سے کارروائی کر سکتے ہیں، خفیہ معلومات جمع کر سکتے ہیں، اور قانونی کارروائی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
سرحد تک پہنچنے سے پہلے کی انسدادی کارروائیاں بھی اب سی بی پی کی حکمتعملی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔ ادارہ غیر ملکی حکومتوں، نجی شعبے کے شراکت داروں، اور بیرون ملک تعینات اہلکاروں کے ساتھ مل کر ابتدائی خام کیمیاوی مادّوں اور تیاری میں استعمال ہونے والے آلات کو غیر قانونی نیٹ ورکس تک پہنچنے سے پہلے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، سی بی پی کا دفتر ِ تجارت رسد و ترسیل کے نظام میں موجود کمزوریوں کا تجزیہ کرتا ہے تاکہ جائز تجارتی راستوں کے ذریعے آنے وا لے ابتدائی خام کیمیاوی مادّوں اور آلات کی کھیپوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔
عہدیدار کے مطابق، ایچ ایس آئی فینٹانِل کے ابتدائی خام کیمیاوی مادّوں کو ’’محض منشیات کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی غیر قانونی سپلائی چین سے متعلق ایک چیلنج‘‘ سمجھتی ہے۔ زیادہ خطرے والی سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے ایچ ایس آئی تجارتی ڈیٹا، کھیپوں کی تفصیلی فہرستیں، کسٹمز اعلانات، اور تجارتی ریکارڈس کا تجزیہ کرتی ہے تاکہ غیر معمولی راستوں، مصنوعات کی متضاد تفصیلات، یا بار بار بھیجی جانے والی کم مقدار کی ایسی کھیپوں جیسی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا سکے جو کسی کمپنی کی بیان کردہ کاروباری سرگرمیوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی تحقیقات بھی جاری رہتی ہیں، جن میں بینکوں، فرضی کمپنیوں ، منی سروس کاروباروں اور تجارت پر مبنی مالیاتی اسکیموں کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں کا سراغ لگا کر اُن نیٹ ورکس کی شناخت کی جاتی ہے جو بنیادی خام کیمیاوی مادّوں کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق جائز صنعتوں کے ساتھ شراکت داری بھی اب زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی جارہی ہے۔ایچ ایس آئی کیمیکل تیار کرنے والی کمپنیوں، تقسیم کاروں، اور لاجسٹکس اداروں کے ساتھ مل کر مشتبہ آرڈرس کی بہتر نگرانی کو یقینی بناتی ہے اور مشکوک لین دین یا صارفین کے بارے میں اطلاع دینے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
امریکہ۔ ہند تعاون فریم ورک
چوں کہ فینٹانِل کی تیاری کا انحصار بڑی حد تک عالمی سطح پر تجارت ہونے والے کیمیاوی مادّوں پر ہے ، اس لیے بین الاقوامی تعاون کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ دواسازی اور صنعتی کیمیاوی مادّوں کے ایک بڑے پیدوار ملک اور برآمدہ کنندہ کی حیثیت سے ہندوستان اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ایچ ایس آئی کے عہدیدار کہتے ہیں، ’’مصنوعی منشیات اور بنیادی خام کیمیاوی مادّوں کے معاملے میں ہندوستان ایک اہم شراکت دار ہے۔ ہماری شمولیت کو رسد و ترسیل کے چیلنج کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے یعنی جائز کیمیاوی مادّوں اور مہارت کو غیر قانونی فینٹا نِل اور دیگر مصنوعی منشیات کی تیاری کی جانب منتقل ہونے سے روکنے کے لیے مل کر کام کرنا۔‘‘
تعاون کا دائرہ اب بڑھتے ہوئے ضابطہ جاتی فریم ورکس کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، جس کی حمایت تکنیکی تبادلوں، مالیاتی اور تجارت پر مبنی تحقیقات سے متعلق تربیت، اور سائبر و ڈارک ویب کے ذریعے ممکن بنائی جانے والی اسمگلنگ سے نمٹنے کی سرگرمیوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ ایچ ایس آئی کے عہدیدار مزید کہتے ہیں، ’’اس تعاون کا ایک بنیادی ستون امریکہ۔ ہند ڈرگ پالیسی فریم ورک کے تحت ہماری شمولیت ہے، جو ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا کرنے، ابھرتے ہوئے رجحانات کے بارے میں معلومات کے تبادلے، اور پالیسی و عملی ردعمل کو مربوط بنانے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔‘‘
سی بی پی بھی محصولات کے معاملے میں باہمی تعاون معاہدے جیسے انتظامات کے تحت ہندوستانی حکام کے ساتھ کام کرتی ہے۔ سی بی پی کے عہدیدار کے مطابق، ’’اس تعاون میں آن لائن فروخت میں خلل ڈالنے کے لیے خفیہ معلومات کا تبادلہ اور مصنوعی منشیات کی نقل و حرکت کو نشانہ بنانے اور روکنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تربیتی اور مشاورتی وسائل تیار کرنا شامل ہے۔‘‘
تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے، ایچ ایس آئی نے تجارت میں شفافیت کو یقینی بنانے والی یونٹوں اور بین قومی جرائم کی دو طرفہ تفتیش جیسی دو طرفہ تجاویز پیش کی ہیں جن کا مقصد حقیقی وقت میں معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا اور رسد و ترسیل کے غیر قانونی نظام کو مشترکہ طور پر نشانہ بنانا ہے۔
ایچ ایس آئی کے عہدیدار مزید کہتے ہیں، ’’صرف قریبی شراکت داری، باہمی اعتماد، اور معلومات کے مسلسل تبادلے کے ذریعے ہی ہم مصنوعی منشیات اور بنیادی خام کیمیاوی مادّوں سے وابستہ پیچیدہ چیلنج کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ‘‘
تعاون کا بین ادارہ جاتی نظام
فینٹانِل کے خلاف کارروائی بڑی حد تک اُن اداروں کے درمیان ہم آہنگی پر منحصر ہے جو قانون نافذ کرنے کے سلسلے کے مختلف مراحل پر کام کرتے ہیں۔ سی بی پی داخلے کے مقامات اور تجارتی راستوں پر غیر قانونی کھیپوں کی نشاندہی اور انہیں روکنے پر توجہ دیتی ہے، جبکہ ایچ ایس آئی ضبط شدہ منشیات سے متعلق ڈیٹا، مالیاتی ریکارڈ، خفیہ معلومات کے تجزیوں اور تحقیقاتی سراغوں کی مدد سے ان کے پس پردہ موجود مجرمانہ نیٹ ورکس کی شناخت اور ان کے خاتمے کے لیے کام کرتی ہے۔
عہدیداروں کے مطابق، سی بی پی کی جانب سے روکی جانے والی کھیپوں سے حاصل ہونے والی معلومات اکثر براہِ راست ایچ ایس آئی کی تحقیقات میں استعمال ہوتی ہیں۔ سی بی پی کے عہدیدار کہتے ہیں’’سی بی پی اور ایچ ایس آئی کے درمیان معلومات کا مسلسل تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ سی بی پی کے نیشنل ٹارگٹنگ سینٹر میں تعینات ایچ ایس آئی کی ٹیمیں شپنگ اور ضبطی سے متعلق ڈیٹا کا تجزیہ کر کے فینٹانِل اسمگلنگ میں ملوث تنظیموں کی نشاندہی کرتی ہیں۔‘‘ دونوں ادارے اسمگلنگ کے راستوں، طریقۂ کار، مشتبہ کھیپوں، اور ابھرتے ہوئے رجحانات سے متعلق حقیقی وقت کی خفیہ معلومات بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، جبکہ مشترکہ ٹاسک فورسز اور ٹارگٹنگ مراکز کے ذریعے باہمی تعاون جاری رکھتے ہیں۔
سی بی پی کی تیز رفتار جانچ کی ٹیکنالوجیوں اور مال برداری کی جانچ کے نظام، خفیہ معلومات جمع کرنے اور قانونی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ایچ ایس آئی کے تفتیش کار انہیں سراغوں کی بنیاد پر اسمگلنگ میں ملوث تنظیموں کا نقشہ تیار کرتے ہیں، ابتدائی خام کیمیاوی مادّوں کے رسد و ترسیل کے نظام کا سراغ لگاتے ہیں ، اور وفاقی، ریاستی، مقامی، اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بعد کی تحقیقات کو مربوط بناتے ہیں۔
آگے کا راستہ
بالآخر، فینٹانِل کے خلاف جدوجہد اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت کے تمام متعلقہ ادارے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مصنوعی منشیات کے دور میں صرف ضبطی کی کارروائیاں کافی نہیں رہیں۔ فینٹانِل کو روایتی اسمگلنگ کے مسئلے کے بجائے ایک رسد و ترسیل کے ایک عالمی نظام اور صحت عامّہ کے بحران کے طور پر دیکھتے ہوئے ، حکام ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں میں مسلسل خلل ڈالنا ہے۔
جیسے جیسے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس عالمی تجارتی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ پوشیدہ ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سفارت کاری، اور مالی لین دین کی تحقیقاتی جانچ کے ذریعے خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے کی دوڑ جدید انسدادِ منشیات کارروائیوں کا اہم محاذ بنتی جارہی ہے۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

