Bharat Express DD Free Dish

Dialogue on Democracy: فیڈرل اسٹڈیز ڈسکورس سیریز کے تحت جامعہ ہمدرد میں ’’مکالمہ برائے جمہوریت‘‘ کا کامیاب انعقاد

ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے اپنے کلیدی خطاب میں جنوبی ایشیا میں جمہوریت کے ارتقاء، اس کے چیلنجز اور اس کی مضبوطی پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنی خدمات کے تجربات کی روشنی میں جمہوریت کے بنیادی اصولوں شراکت، نمائندگی اور احتساب پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ اصول جنوبی ایشیائی ممالک میں مختلف صورتوں میں سامنے آئے ہیں۔

نئی دہلی: سینٹر فار فیڈرل اسٹڈیز، پبلک پالیسیز اینڈ گورننس، جامعہ ہمدرد کے زیر اہتمام فیڈرل اسٹڈیز ڈسکورس سیریز کا تازہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں معروف کتاب “Democracy’s Heartland: Inside the Battle for Power in South Asia” ( “ڈیموکریسیز ہارٹ لینڈ: ان سائیڈ دی بیٹل فار پاور اِن ساوتھ ایشیا”) کے تناظر میں ’’مکالمہ برائے جمہوریت‘‘ کے عنوان سے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس نشست کے معزز مہمان خصوصی سابق چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا، ڈاکٹر ایس وائی قریشی تھے۔

جمہوریت کا تاریخی ارتقاء اور فکری سفر

پروگرام کا آغاز پروفیسر اجے کمار سنگھ، صدرِ شعبہ، سینٹر فار فیڈرل اسٹڈیز، پبلک پالیسیز اینڈ گورننس، جامعہ ہمدرد کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا۔ انہوں نے جمہوریت کے تاریخی ارتقاء اور فکری سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’جمہوریت وقتی طور پر تعطل کا شکار ہو سکتی ہے، مگر کبھی ختم نہیں ہوتی۔‘‘

جمہوری مکالمہ تعلیمی ترقی کا بنیادی ستون

نشست کی صدارت جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر، پروفیسر (ڈاکٹر) ایم۔ افشار عالم نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے اس سلسلے کی علمی و فکری اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام جامعہ ہمدرد کے بانی کے اُس وژن سے ہم آہنگ ہے جو تنقیدی فکر، مکالمہ اور شہری شعور کو فروغ دینے پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں جمہوری مکالمہ فکری نمو اور تعلیمی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔

شراکت، نمائندگی اور احتساب

ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے اپنے کلیدی خطاب میں جنوبی ایشیا میں جمہوریت کے ارتقاء، اس کے چیلنجز اور اس کی مضبوطی پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنی خدمات کے تجربات کی روشنی میں جمہوریت کے بنیادی اصولوں شراکت، نمائندگی اور احتساب پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ اصول جنوبی ایشیائی ممالک میں مختلف صورتوں میں سامنے آئے ہیں۔

بھارت کی انتخابی شفافیت کی ستائش

انہوں نے بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور سیاسی اتار چڑھاؤ کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ بھارت کی انتخابی شفافیت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن جمہوری اقدار کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ غلط معلومات، دولت کے اثر و رسوخ اور ووٹرز کے اعتماد میں کمی جیسے خطرات سے جمہوریت کو چیلنج درپیش ہیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کے ممالک میں رائج بہترین انتخابی طرزعمل پر بھی روشنی ڈالی۔

میڈیا کے کردار پر گفتگو

اس موقع پر معروف صحافی اور این ڈی ٹی وی کی سابق منیجنگ ایڈیٹر، محترمہ ندھی کلپتی نے میڈیا کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافتی بیانیے جمہوری معاشروں میں عوامی رائے اور احتساب کے رجحانات کو گہرائی سے متاثر کرتے ہیں۔

پروگرام کی ترتیب و تنظیم امر پرتاپ سنگھ، محترمہ طوبیٰ نقیب، عبد الرحمن اور شمس تبریز صدیقی نے سینٹر فار فیڈرل اسٹڈیز، پبلک پالیسیز اینڈ گورننس، جامعہ ہمدرد کی رہنمائی میں انجام دی۔ نشست کا اختتام طلبہ و اساتذہ کے ساتھ مکالماتی سوال و جواب کے سیشن پر ہوا جس کے بعد محترمہ انعم شیخ نے شکریے کے کلمات ادا کیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read