Bharat Express DD Free Dish

political dialogue

پیر کے روز اوم برلا نے ایک آل پارٹی میٹنگ طلب کی تھی۔ اس اجلاس کا مقصد ایوان کی کارروائی میں بار بار آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا راستہ نکالنا تھا۔  اجلاس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے کئی اہم رہنما شریک ہوئے۔ طویل بحث کے بعد دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ پارلیمنٹ کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے اپنے کلیدی خطاب میں جنوبی ایشیا میں جمہوریت کے ارتقاء، اس کے چیلنجز اور اس کی مضبوطی پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنی خدمات کے تجربات کی روشنی میں جمہوریت کے بنیادی اصولوں شراکت، نمائندگی اور احتساب پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ اصول جنوبی ایشیائی ممالک میں مختلف صورتوں میں سامنے آئے ہیں۔

’’چین اور ہندوستان مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی فلاح، ترقی پذیر ممالک میں یکجہتی و بیداری، اور انسانی معاشرے کی پیشرفت کو فروغ دیں۔‘‘

اس سے پہلے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 31 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ بجٹ اجلاس کے دوران کئی اہم قوانین منظور کیے گئے، جن میں وقف ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجیجو نے بتایا کہ اجلاس کے پہلے حصے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کل 9 نشستیں ہوئیں۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں دونوں ایوانوں کی 17 نشستیں ہوئیں۔ یوں کل ملا کر بجٹ اجلاس میں 26 نشستیں ہوئیں۔