Parliamentary Standoff to End: پارلیمنٹ میں تعطل ختم ہونے کا امکان، اسپیکر کی میٹنگ میں اتفاق، آٹھ معطل ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت ہوسکتی ہے بحال
پیر کے روز اوم برلا نے ایک آل پارٹی میٹنگ طلب کی تھی۔ اس اجلاس کا مقصد ایوان کی کارروائی میں بار بار آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا راستہ نکالنا تھا۔ اجلاس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے کئی اہم رہنما شریک ہوئے۔ طویل بحث کے بعد دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ پارلیمنٹ کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے۔
Dialogue on Democracy: فیڈرل اسٹڈیز ڈسکورس سیریز کے تحت جامعہ ہمدرد میں ’’مکالمہ برائے جمہوریت‘‘ کا کامیاب انعقاد
ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے اپنے کلیدی خطاب میں جنوبی ایشیا میں جمہوریت کے ارتقاء، اس کے چیلنجز اور اس کی مضبوطی پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنی خدمات کے تجربات کی روشنی میں جمہوریت کے بنیادی اصولوں شراکت، نمائندگی اور احتساب پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ اصول جنوبی ایشیائی ممالک میں مختلف صورتوں میں سامنے آئے ہیں۔
Xi Jinping during bilateral talks with PM Modi: دو طرفہ ملاقات کے دوران ہند-چین دوستی کی اہمیت پر زور، چین-ہند تعلقات کو آگے بڑھانا ’درست انتخاب‘ ہے: شی جن پنگ
’’چین اور ہندوستان مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی فلاح، ترقی پذیر ممالک میں یکجہتی و بیداری، اور انسانی معاشرے کی پیشرفت کو فروغ دیں۔‘‘
Centre to convene all-party meeting: مرکزی حکومت نے مانسون اجلاس سے قبل 19 جولائی کو آل پارٹی میٹنگ بلانے کا اعلان کیا، آپریشن سندور کے بعد پہلا پارلیمانی اجلاس 21 سے
اس سے پہلے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 31 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ بجٹ اجلاس کے دوران کئی اہم قوانین منظور کیے گئے، جن میں وقف ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجیجو نے بتایا کہ اجلاس کے پہلے حصے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کل 9 نشستیں ہوئیں۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں دونوں ایوانوں کی 17 نشستیں ہوئیں۔ یوں کل ملا کر بجٹ اجلاس میں 26 نشستیں ہوئیں۔





