Bharat Express DD Free Dish

Parliamentary Standoff to End: پارلیمنٹ میں تعطل ختم ہونے کا امکان، اسپیکر کی میٹنگ میں اتفاق، آٹھ معطل ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت ہوسکتی ہے بحال

پیر کے روز اوم برلا نے ایک آل پارٹی میٹنگ طلب کی تھی۔ اس اجلاس کا مقصد ایوان کی کارروائی میں بار بار آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا راستہ نکالنا تھا۔  اجلاس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے کئی اہم رہنما شریک ہوئے۔ طویل بحث کے بعد دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ پارلیمنٹ کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے جاری اجلاس میں جاری تعطل ختم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ حال ہی میں معطل کیے گئے آٹھ ارکان پارلیمنٹ کی معطلی واپس لیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق منگل کو پارلیمنٹ میں ایک قرارداد لا کر اس فیصلے کو منسوخ کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد یہ تمام ارکان دوبارہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لے سکیں گے۔ پیر کے روز اوم برلا نے ایک آل پارٹی میٹنگ طلب کی تھی۔ اس اجلاس کا مقصد ایوان کی کارروائی میں بار بار آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا راستہ نکالنا تھا۔  اجلاس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے کئی اہم رہنما شریک ہوئے۔ طویل بحث کے بعد دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ پارلیمنٹ کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے۔ اسی اتفاقِ رائے کے نتیجے میں اب معطل ارکان کو دوبارہ ایوان میں آنے کا موقع مل سکتا ہے۔

معطلی ختم کرنے کے ساتھ انتباہ

میٹنگ میں یہ بھی طے پایا کہ معطلی ختم کیے جانے کے ساتھ ان ارکان کو سخت ہدایت دی جائے گی کہ وہ ایوان کی وقار اور نظم و ضبط کا مکمل خیال رکھیں۔ انہیں مستقبل میں غیر پارلیمانی زبان یا نامناسب طرز عمل سے بچنے کی بھی تلقین کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق معطلی ختم کرنے کی قرارداد اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جا سکتی ہے، جسے حکومت کی حمایت ملنے کا امکان ہے۔

تنازع کی وجہ کیا تھی؟

یہ تنازع لوک سبھا کے بجٹ اجلاس کے دوران شدید ہنگامے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ ارکان پر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے اور اسپیکر کی کرسی کی طرف کاغذات اچھالنے جیسے الزامات لگے تھے، جس کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا تھا۔ معطل کیے گئے ارکان میں ہیبی ایڈن، امریندر سنگھ راجہ وارنگ، منکّم ٹیگور، گرجیت سنگھ اَوجلا، کرن کمار ریڈی، پراشانت پاڈولے، ڈین کریاکوس اور سی پی ایم کے ایس وینکٹیشن شامل ہیں۔ اگر قرارداد منظور ہو جاتی ہے تو یہ تمام ارکان دوبارہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں شرکت کر سکیں گے اور ایوان میں جاری تعطل ختم ہونے کی امید ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read