Bharat Express DD Free Dish

parliamentary affairs

حکومت کی جانب سے خواتین ریزرویشن اور نشستوں میں اضافے کے لیے تین اہم بل پیش کردیے گئے ہیں۔ ان بلوں کا مقصد 2023 میں منظور شدہ ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ کو مکمل طور پر نافذ کرنا اور خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی لوک سبھا میں حد بندی بل پیش کیے جانے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا، جہاں اپوزیشن نے اس اقدام پر سخت اعتراضات ظاہر کیے۔

پیر کے روز اوم برلا نے ایک آل پارٹی میٹنگ طلب کی تھی۔ اس اجلاس کا مقصد ایوان کی کارروائی میں بار بار آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا راستہ نکالنا تھا۔  اجلاس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے کئی اہم رہنما شریک ہوئے۔ طویل بحث کے بعد دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ پارلیمنٹ کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا یہ اجلاس پارلیمانی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب قومی سلامتی، چین تنازع اور پارلیمانی قواعد جیسے حساس موضوعات پر شدید اختلافات سامنے آ چکے ہیں، اپوزیشن کی مشترکہ حکمتِ عملی آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے سیاسی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس سے پہلے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 31 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ بجٹ اجلاس کے دوران کئی اہم قوانین منظور کیے گئے، جن میں وقف ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجیجو نے بتایا کہ اجلاس کے پہلے حصے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کل 9 نشستیں ہوئیں۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں دونوں ایوانوں کی 17 نشستیں ہوئیں۔ یوں کل ملا کر بجٹ اجلاس میں 26 نشستیں ہوئیں۔