رائے پور: چھتیس گڑھ کی سیاست میں ایک بار پھر دھرم اور آستھا کے درمیان سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ ریاست کے سابق وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل کے ایک بیان نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس کے بعد حکمراں اور اپوزیشن جماعتیں آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ اس بیان پر معروف کتھا واچک پنڈت دھیریندر کرشن شاستری نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مذہبی جذبات کی توہین قرار دیا ہے۔
بھوپیش بگھیل کے بیان سے تنازع کی شروعات
دراصل ضلع دُرگ میں منعقدہ ’’آئین پَرو‘‘ پروگرام کے دوران بھوپیش بگھیل نے بی جے پی، آر ایس ایس اور کتھا کہنے والوں سے متعلق تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہندو کبھی خطرے میں نہیں رہے، لیکن ’’ہندو خطرے میں ہے‘‘ جیسے نعروں کے ذریعے بی جے پی اور آر ایس ایس نے انتخابی فائدہ حاصل کیا۔ ان کے مطابق خوف کا ماحول بنا کر تین مرتبہ اقتدار حاصل کیا گیا۔ بھوپیش بگھیل نے کتھا کہنے والوں پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں بھگوان کی کتھا کم اور ٹوٹکوں و اندھی عقیدت کا پرچار زیادہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ سماج کے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود لوگ توہم پرستی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
دھیریندر کرشن شاستری کا ردعمل
سابق وزیراعلیٰ کے بیان پر پنڈت دھیریندر کرشن شاستری نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہنومان بھکتی کا پرچار کرنا اور ہندوؤں کو جوڑنے کی بات کرنا اندھی عقیدت ہے تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو ملک چھوڑ دینا چاہیے۔ ان کے اس بیان کے بعد تنازع مزید گہرا ہو گیا اور بحث سیاست سے نکل کر آستھا تک جا پہنچی۔
بی جے پی کا کانگریس پر حملہ
اس معاملے پر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنتوش پانڈے نے کانگریس اور بھوپیش بگھیل پر سناتن دھرم کی توہین کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین کو نہ عوام کی آستھا پر یقین ہے اور نہ ہی ملک کی روایات پر۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رام مندر جیسے حساس مسائل پر کانگریس کا موقف ہمیشہ دوہرا رہا ہے۔
کانگریس کا جواب اور سیاسی کشیدگی
بی جے پی کے الزامات کے جواب میں کانگریس کے سابق ممبراسمبلی وکاس اپادھیائے نے کہا کہ دھرم اور آستھا کو سیاسی ہتھیار بنانا غلط ہے اور اس طرح کے بیانات سے سماج میں صرف کشیدگی اور تناؤ بڑھتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
