Urdu Conclave 2026

political controversy India

ترنمول کانگریس اور حکمراں بی جے پی کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جیسے جیسے ای ڈی کی کارروائیاں آگے بڑھ رہی ہیں، ویسے ویسے ریاست بھر میں سیاسی ردعمل بھی سامنے آرہا ہے اور معاملہ مزید طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

مہاراشٹر کی بلدیاتی سیاست میں نظریات پس پشت، اقتدار کے لیے غیر متوقع اتحادوں پر سیاسی ہلچل، حالیہ نگر پریشد انتخابات میں اکولا ضلع کی اکوٹ نگر پریشد اور تھانے کی امبرناتھ نگر پریشد میں واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد بی جے پی نے اقتدار کے حصول کے لیے کہیں کانگریس اور کہیں AIMIM سے اتحاد کر لیا۔

بی جے پی کے الزامات کے جواب میں کانگریس کے سابق ممبراسمبلی وکاس اپادھیائے نے کہا کہ دھرم اور آستھا کو سیاسی ہتھیار بنانا غلط ہے اور اس طرح کے بیانات سے سماج میں صرف کشیدگی اور تناؤ بڑھتا ہے۔

مسلم کمیونٹی پر الزام تراشی کے بعد سابق وزیراعلیٰ کا سخت ردعمل۔ محبوبہ مفتی نے کہا ’’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ اگر مجرمانہ کارروائی پر بحث ہونی ہے تو اسے ثبوتوں اور تفتیش کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ مذہبی بنیاد پر۔ اس طرح کے بیانات قوم کے اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے خلاف ہیں۔‘‘

ریکھا گپتا نے کہا کہ بہار کے لوگ این ڈی اے حکومت کے ترقیاتی کاموں کو دیکھ چکے ہیں اوروزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’پچھلے پندرہ سالوں میں بہار میں جو ترقی نظر آتی ہے وہ این ڈی اے کے دور میں ہی ممکن ہوئی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ این ڈی اے اس بار بھی واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی اور پچھلی بار سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں حاصل کرے گی۔‘‘

سنجے راؤت نے کہا کہ وہ اپوزیشن جماعتیں جو کانگریس ایم پی راہل گاندھی کی قیادت میں مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات کے خلاف لڑ رہی ہیں ممبئی میں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔ جس کے خلاف ہم دہلی میں راہل گاندھی کی قیادت میں لڑ رہے ہیں اب مہاراشٹر میں بھی اس کا آغاز ہورہا ہے۔