Bharat Express DD Free Dish

Paper Leak Protest NEET UG Controversy: مظاہرین نے یاد دلایا 1997 کا وہ واقعہ ،  جب پیپر لیک کے خلاف خود سڑکوں پر اترے تھے دھرمیندر پردھان

نیٹ-یو جی پیپر لیک تنازع کے درمیان مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی تقریباً تین دہائیاں پرانی طلبہ تحریک ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہے۔ مظاہرین 1997 کے اس واقعے کا حوالہ دے رہے ہیں، جب دھرمیندر پردھان خود مبینہ پیپر لیک کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کا حصہ بنے تھے۔

نیٹ-یو جی پیپر لیک تنازع کے بعد مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے متعلق سیاسی ماحول گرم ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ، والدین اور اپوزیشن جماعتیں اس معاملے میں جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اسی دوران تقریباً 30 سال پرانا ایک واقعہ دوبارہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دھرمیندر پردھان نے خود بھی کبھی پیپر لیک کے خلاف طلبہ کی بڑی تحریک میں حصہ لیا تھا۔سوشل میڈیا پر 2021 کی ایک پروفائل رپورٹ تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ میں دھرمیندر پردھان کے ایک سابق ساتھی کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ 1997 میں اڈیشہ میں مبینہ سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے خلاف ہونے والے احتجاج میں وہ شریک ہوئے تھے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس تحریک کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں دھرمیندر پردھان زخمی ہوئے تھے۔ تاہم، اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

1997 میں اڈیشہ میں طلبہ کا احتجاج

یہ واقعہ اس دور کا ہے جب ملک کی سیاست ایک اہم تبدیلی سے گزر رہی تھی۔ 1997 میں مرکز میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت اکثریت ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسی دوران اڈیشہ میں ایک امتحان کا سوالیہ پرچہ لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

اس وقت دھرمیندر پردھان اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) سے وابستہ تھے اور بی جے پی کی سیاست میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق انہوں نے تقریباً 1500 طلبہ کے ساتھ اُس وقت کی اڈیشہ کانگریس حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس کارروائی کے دوران وہ شدید زخمی ہوئے تھے اور انہیں فریکچر بھی آیا تھا۔

سوشل میڈیا پر دو طرح کے ردعمل

اس پرانے واقعے کے دوبارہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایک طبقہ دھرمیندر پردھان کو اُس دور کا جدوجہد کرنے والا طلبہ لیڈر قرار دیتے ہوئے ان کی پرانی تصاویر شیئر کر رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ موجودہ نیٹ پیپر لیک تنازع سے اس واقعے کو جوڑتے ہوئے سوال اٹھا رہا ہے کہ جو لیڈر کبھی امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرتے تھے، ان کے دورِ وزارت میں ایسے معاملات کیوں سامنے آ رہے ہیں۔

طلبہ سیاست سے مرکزی وزیر تک کا سفر

دھرمیندر پردھان نے کم عمری میں ہی طلبہ سیاست میں قدم رکھا تھا۔ اتکل یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ طلبہ تحریکوں میں سرگرم رہے۔ 1994 سے 1997 کے درمیان وہ اے بی وی پی کے قومی سکریٹری بھی رہے۔ 90 کی دہائی میں طلبہ سیاست میں ان کی سرگرمیوں کے باعث تنظیم میں ان کی شناخت مضبوط ہوتی گئی۔بعد ازاں انہوں نے اڈیشہ میں بی جے پی کی تنظیم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ریاست میں بی جے پی کی توسیع میں ان کا نمایاں حصہ رہا۔ سال 2024 میں اڈیشہ میں پہلی مرتبہ بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی اور بیجو جنتا دل کی طویل حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔

نیٹ تنازع نے حکومت کی مشکلات بڑھا دیں

دھرمیندر پردھان کے وزیرِ تعلیم بننے کے بعد امتحانی نظام سے متعلق کئی چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ پیپر لیک اور مسابقتی امتحانات کی شفافیت جیسے معاملات پر حکومت کو مسلسل تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں پیپر لیک کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جس سے طلبہ اور والدین کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

فی الحال نیٹ-یو جی پیپر لیک تنازع کو لے کر دہلی کے جنتر منتر سمیت کئی مقامات پر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں اصلاحات، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور وزیرِ تعلیم سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی دوران دھرمیندر پردھان کی تین دہائیاں پرانی طلبہ تحریک بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read