ایکناتھ شندے اور دیویندر فڑنویس کے درمیان اختلافات کی خبریں پھر سامنے آنے لگی ہیں۔
Devendra Fadnavis Vs Eknath Shinde: مہاراشٹر میں مہایوتی حکومت بننے کے بعد سے ایکناتھ شندے اور دیویندر فڑنویس کے درمیان کا کولڈ وارکسی سے چھپا نہیں ہے۔ دراصل، ایکناتھ شندے کو پھر سے وزیراعلیٰ بننے کی امید تھی، اس ارادے پر دیویندر فڑنویس نے وزیراعلیٰ بن کر پانی پھیر دیا۔ اس کے بعد سے مسلسل ‘سرد جنگ’ کی خبریں آتی رہی ہیں۔
اس درمیان ایکناتھ شندے اب ایکشن موڈ میں آگئے ہیں۔ شندے نے اپنی پارٹی کے سبھی وزرا کو فیلڈ پر اترکر کام کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایکناتھ شندے 4 مارچ کوڈپٹی چیف منسٹراسسٹنس میڈیکل روم کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کے نام سے پہلے سے ہی میڈیکل ہیلپ سینٹرشروع ہے، لیکن اب ایکناتھ شندے کی انٹری کے بعد اب دو دو ہیلپ سینٹر ہونے والے ہیں۔ اب قیاس آرائی یہ بھی ہے کہ دیویندرفڑنویس کو ٹکردینے کے لئے ایکناتھ شندے نے یہ فارمولہ تو نہیں اپنایا ہے۔
کیا ہے شندے کی حکمت عملی؟
ایکناتھ شندے نے اپنے وزیراعلیٰ کی مدت میں 15 ہزار مریضوں کو 419 کروڑ روپئے دیئے۔ اس کام کاج سے اب ایکناتھ شندے کی طرف لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔ شندے کے پاس اب پانچ سال ہے، اس حساب سے شندے اپنے قدم رکھ رہے ہیں۔ وزارت کے پہلے فلور پر یہ سینٹر قائم ہونے والا ہے۔ اسی طرح، وزارت کی ساتویں منزل پروزیراعلیٰ کا وار روم ہے، جہاں مہاراشٹر کے اہم پروجیکٹس اور اہم موضوعات کی نگرانی ہوتی ہے۔ اس کے ٹھیک پاس ہی شندے نے ڈی سی ایم کوآرڈی نیشن کمیٹی سینٹر بنا دیا ہے، جس سے وہ بھی ریاست کی اسکیموں کا جائزہ لے سکیں۔
حکومت کی تشکیل اور شندے کی ناراضگی
پہلے توحکومت میں شامل ہونے پرایکناتھ شندے تیارنہیں تھے۔ دوسری طرف حکومت میں نائب وزیراعلیٰ عہدے پرایکناتھ شندے ناراض چل رہے ہیں۔ حال ہی میں ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی میں شندے کوجگہ نہیں دی گئی تھی، لیکن ان کی ناراضگی کے بعد نئے ضوابط بنا کرانہیں شامل کیا گیا۔ اسی طرح، رائے گڑھ اورناسک ضلع کے پالک وزیرعہدے سے متعلق تنازعہ اب حل نہیں ہوپایا ہے۔ شندے شیوسینا کے لیڈر اوران کے حامی بھلے ہی عوامی طورپرحکومت میں سب کچھ ٹھیک ہونے کی بات کہیں، لیکن اندرخانہ نا اتفاقی کی خبریں لگا کرسامنے آرہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



