کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: دہلی کی راوزایوینیوکورٹ نے سونیا گاندھی کا ووٹرلسٹ میں نام ہونے کے معاملے میں بڑا فیصلہ لیا ہے۔ عدالت نے کانگریس کی سابق صدرکے خلاف مبینہ طورپربغیرہندوستانی شہریت حاصل کئے ووٹرلسٹ میں نام شامل کرانے کے معاملے میں انہیں اوردہلی پولیس کونوٹس جاری کیا ہے۔ معاملہ اس الزام سے جڑا ہے کہ مبینہ طورپرہندوستانی شہریت حاصل کرنے سے پہلے ان کا نام نئی دہلی کی ووٹرلسٹ میں شامل کردیا گیا تھا۔ عدالت اس پورے معاملے کی آئندہ سماعت 6 جنوری 2026 کو کرے گی۔
شہریت سے متعلق تنازعہ اس وقت اٹھا، جب وکیل وکاس ترپاٹھی نے عدالت میں نظرثانی عرضی داخل کی۔ ان کا الزام ہے کہ سونیا گاندھی کو30 اپریل 1983 کوہندوستان کی شہریت ملی، لیکن اس کے تین سال پہلے یعنی 1980 کی ووٹرلسٹ میں ان کا نام پہلے سے موجود تھا۔ عرضی گزارکا کہنا ہے کہ ووٹرلسٹ میں انہیں کا نام شامل ہوسکتا ہے، جن کے پاس ہندوستانی شہریت ہو، اس لئے 1980 کی لسٹ میں اندراج اپنے آپ میں خدشہ پیدا کرتا ہے۔
ایڈوکیٹ وکاس ترپاٹھی نے دی یہ دلیل
ایڈوکیٹ وکاس ترپاٹھی نے عرضی میں یہ بھی ذکرکیا کہ سال 1982 میں سونیا گاندھی کا نام فہرست سے ہٹا دیا گیا اور 1983 میں شہریت ملنے کے بعد دوبارہ جوڑا گیا۔ ان تینوں مرحلوں میں (پہلے جوڑنا، پھرہٹانا اوربعد میں دوبارہ شامل کرنے کے عمل کو عرضی گزار نے سنگین بدعنوانی قراردیا ہے۔
مجسٹریٹ کورٹ نے معاملہ کیوں کیا تھا خارج؟
ستمبر، 2025 میں مجسٹریٹ کورٹ نے اس شکایت کویہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا کہ عرضی گزاراپنے الزامات کے لئے مناسب اورٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ عدالت نے تسلیم کیا تھا کہ ایف آئی آردرج کرانے کی بنیاد کمزورہے اوردستیاب ثبوتوں سے کوئی واضح جرم نہیں بنتا، لیکن اب نظرثانی کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے راوزایوینیوکورٹ نے پہلی نظرمیں یہ معاملہ دیکھنے کے لائق تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ نوٹس جاری کردیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریق کے دلائل سنے بغیرآگے کا عمل طے کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


