دہلی این سی آر میں آلودگی کی سطح مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ہفتہ کے روز 29 نومبر کی صبح 8 بجے سی پی سی بی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دہلی کا اوسط اے کیو آئی 335 ریکارڈ کیا گیا، یعنی 400 کے قریب، جو ’انتہائی خراب‘ کیٹیگری میں آتا ہے اور خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے ہوا کا معیار ’سنگین‘ اور ’انتہائی خراب‘ کے درمیان برقرار ہے۔
متعدد علاقوں میں اے کیو آئی 320 سے زیادہ ریکارڈ
انڈیا گیٹ، آنند وہار اور آیا نگر جیسے متعدد علاقوں میں اے کیو آئی 320 سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ راجدھانی کے کئی حصوں—نریلا، دوارکا، روہنی—میں صبح چہل قدمی کرنے والوں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے، کیونکہ زیادہ آلودگی نے سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور سر درد جیسی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ صحت کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ صورتِ حال اس قدر سنگین ہے کہ اسے پارلیمنٹ کے سرد اجلاس میں اٹھانے کی تیاری ہے۔ دیوالی کے بعد کچھ پابندیوں میں نرمی ضرور دی گئی ہے، مگر آلودگی کا خطرہ کم نہیں ہوا۔ اسی بڑھتی ہوئی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے دہلی کے معروف آرتھوپیڈک سرجن اور میکس سپر اسپیشلٹی اسپتال پٹپڑ گنج میں گزشتہ 15 برسوں سے پرنسپل کنسلٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر دیپک اروڑا نے بتایا کہ آلودگی صرف پھیپھڑوں ہی نہیں بلکہ ہڈیوں اور جوڑوں کو بھی گہرائی سے نقصان پہنچا رہی ہے۔
آلودگی ہڈیوں اور جوڑوں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
فضا میں موجود باریک ذرات—PM2.5 اور PM10—صرف پھیپھڑوں میں اٹکتے نہیں بلکہ خون کے دورانئے میں شامل ہو کر پورے جسم میں سوزش پیدا کرتے ہیں، جو ہڈیوں کی کمزوری اور جوڑوں کے درد میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ سوزش جوڑوں میں درد، پٹھوں میں کھچاؤ، ہڈیوں کی کمزوری اور گٹھیا میں اضافہ جیسے مسائل کا سبب بنتی ہے۔ متعدد مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلسل خراب ہوا میں رہنے سے ہڈیوں کی کثافت بھی کم ہو جاتی ہے، یعنی ہڈیاں وقت سے پہلے کمزور ہونے لگتی ہیں۔
دھوپ نہ ملنا: وٹامن ڈی کی کمی کی بڑی وجہ ہے۔ آلودگی کا سب سے بڑا منفی اثر یہ ہے کہ لوگ باہر نکل ہی نہیں پا رہے ہیں۔ دھوپ میں کم وقت گزارنے سے جسم کو ملنے والا قدرتی وٹامن ڈی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔بچے، نوجوان، خواتین اور بزرگ سبھی اس کمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
ہر طبقے میں وٹامن ڈی کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔ اس کی کمی ہونے پر ہڈیوں کا معدنی اجزاء جذب کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے اور ہڈیاں جلدی کمزور ہونے لگتی ہیں۔
کم چہل قدمی اور کم حرکت درد کو مزید بڑھا دیتی ہے
آلودگی کے باعث لوگ باقاعدہ واک کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ باقاعدہ چلنا صحت مند جوڑ، بہتر خون کی روانی اور وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ جب چلنا کم ہو جاتا ہے تو جوڑوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور جکڑن اور درد مزید بڑھ جاتا ہے۔
نتیجہ:
آلودگی صرف پھیپھڑوں تک محدود مسئلہ نہیں رہ گئی ہے، بلکہ یہ ایک خاموش آرتھوپیڈک خطرے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ ہڈیوں، عضلات اور جوڑوں کو اسی شدت سے نقصان پہنچا رہی ہے، جس قدر یہ سانس اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


