Bharat Express DD Free Dish

Delhi cold wave pollution AQI 372: دہلی سمیت 10 ریاستوں میں سردی کی لہر کا قہر، زہریلی ہوا نے دارالحکومت کی بڑھا دیں مشکلات

دہلی اور شمالی بھارت کی کئی ریاستوں میں سردی کی شدید لہر جاری ہے۔ دارالحکومت میں کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری تک گر گیا، جبکہ اے کیو آئی 372 ریکارڈ ہوا جو ’’بہت خراب‘‘ زمرے میں آتا ہے۔ اگلے 4 سے 5 دن تک سردی اور آلودگی سے کسی راحت کی امید نہیں ہے۔

دہلی میں سردی کا ستم بڑھنے والا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آج سے دارالحکومت سمیت تقریباً 10 ریاستوں میں شدید سردی کی لہر دیکھنے کو ملے گی۔ ان میں دہلی، یوپی، بہار، ایم پی، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور مہاراشٹر کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ آئندہ 4 سے 5 روز تک کڑاکے کی سردی جاری رہنے کا امکان ہے۔ دہلی میں آج کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 24 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کا اندازہ ہے۔ ساتھ ہی صبح و شام دھند کی چادر بھی دکھائی دے گی۔

دہلی کی ہوا زہریلی

سردی کے ساتھ ساتھ دہلی کی ہوا بھی زہریلی ہو گئی ہے۔ منگل کی شام دارالحکومت کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 372 درج کیا گیا جو ’’بہت خراب‘‘ زمرے میں آتا ہے۔ شہر کے 15 سے زیادہ علاقوں میں حالات انتہائی سنگین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ پیر کو AQI 304 تھا اور اتوار کو 279، یعنی حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں۔ پیشگی الرٹ نظام کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی دہلی کی فضا ’’بہت خراب‘‘ ہی رہنے کا امکان ہے۔ رات میں دھند اور دن میں ہلکی ہوا چل سکتی ہے۔ دوپہر میں ہوا کی رفتار 5 کلو میٹر فی گھنٹہ اور شام و رات میں 10 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

آلودگی پر قابو پانے کی کوشش

آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی میونسپل کارپوریشن نے منگل کو کئی اقدامات کی منظوری دی۔ میئر راجہ اقبال سنگھ نے افسران کو ہدایت دی کہ ہوا اور دھول کی آلودگی کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جائے۔ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے عملی تجاویز پیش کی گئیں۔ادھر، راجستھان میں بھی سردی نے اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ بیکانیر کے لونکرنسر میں کم سے کم درجہ حرارت 4.7 ڈگری سیلسیس درج ہوا۔ فتح پور میں 6.6، گنگا نگر میں 6.9، الور میں 8، چورو میں 9 اور بیکانیر میں 9.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں رات کا درجہ حرارت مزید گر سکتا ہے۔ 4 دسمبر کے بعد جے پور اور بیکانیر ریجن میں سردی کی لہر کا اثر اور تیز ہونے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read