Urdu Conclave 2026

DDA issues notices: بٹلہ ہاؤس کے مرادی روڈ پر واقع متعدد مکانات پر ڈی ڈی اے نے لگایا نوٹس، سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے پندرہ دن میں علاقہ خالی کرنے کے لیے کہا

سپریم کورٹ کی ہدایت پر پیر کو مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس کے متعدد مکانات کو تازہ نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ رہائشیوں نے بتایا کہ یہ کیس نیا ہے کیوں کہ کھسرہ نمبر 279 کے مکانات کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر پیر کو مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس کے متعدد مکانات کو تازہ نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ رہائشیوں نے بتایا کہ یہ کیس نیا ہے کیوں کہ کھسرہ نمبر 279 کے مکانات کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ تازہ نوٹس کے مطابق وہاں موجود مکانات اور دکانیں ڈی ڈی اے کی اراضی پر بنائی گئی ہیں۔ اوکھلا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک رہائشی نے بتایا کہ اس کا خاندان 1984 سے اس مکان میں مقیم ہے اور ان کے پاس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے کھسرہ نمبر 277 میں بھی ایسا ہی نوٹس لگایا گیا تھا۔ تاہم وہ معاملہ اس سے الگ ہے، کیوں کہ وہ نوٹس اترپردیش کے محکمہ آب پاشی کی طرف سے لگایا تھا۔ وہاں کے مکینوں نے بھی اس نوٹس کے خلاف عدالت کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حال ہی میں سپریم کورٹ نے دیا ہے حکم

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مئی کے پہلے ہفتے میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کو اوکھلا گاؤں کے کھسرہ نمبر 279 میں 4 بیگھہ سے زیادہ سرکاری زمین پر پھیلے غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس ابھے ایس اوکا اور اجل بھویان کی بنچ نے اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر تعمیل کا حلف نامہ داخل کرے۔

بنچ نے کہا ’’ہم ڈی ڈی اے کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ 2 بیگھہ اور 10 بسواؤں کے رقبے میں غیر مجاز تعمیرات کے سلسلے میں قانون کے مطابق انہدام کی کارروائی کرے۔ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق عمل کیا جائے تو، کسی بھی ڈھانچے کو گرانے سے پہلے متعلقہ افراد کو کم از کم 15 دن کا نوٹس دیا جائے۔‘‘

تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کر دیں۔ نوٹس میں مکال خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read