Bharat Express DD Free Dish

CTI Writes to Sonia Gandhi: سی ٹی آئی نے سونیا گاندھی کو لکھا خط، 10 ہزار کروڑ کے کاروبار پر بحران کا خدشہ، ریلی دیوالی کے بعد کرانے کا مطالبہ

دہلی کے تاجروں کی تنظیم نے کانگریس کی یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں مجوزہ ریلی کی تاریخ 10 یا 11 نومبر کرنے کی اپیل کی، کہا کہ ریلی کے باعث وسطی اور پرانی دہلی کے 20 تاریخی بازاروں کا کاروبار متاثر ہوسکتا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کی جانب سے یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں 10 لاکھ لوگوں کی مجوزہ مہا ریلی کے حوالے سے دہلی کے تاجروں کی تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ریلی کو دیوالی کے بعد، یعنی 10 یا 11 نومبر کو منعقد کیا جائے۔ سی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی راہل گاندھی کو تین خط لکھ کر درخواست کرچکی ہے، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اب اسے سونیا گاندھی سے آخری امید ہے۔

دیوالی کے کاروباری سیزن میں روزگار متاثر ہونے کا خدشہ

سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے کہا، ’’ہم ریلی کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں، بلکہ دیوالی کے عروج کے سیزن میں اپنی روزی روٹی بچانے کے لیے ہاتھ جوڑ کر درخواست کر رہے ہیں۔ 6 نومبر کو دھن تیرس ہے اور 8 نومبر کو دیوالی۔ یکم نومبر ان تہواروں کی تیاری کا سب سے اہم دن ہے۔ اگر یکم نومبر کو 10 لاکھ لوگ اور 15 سے 20 ہزار گاڑیاں وسطی دہلی میں آئیں تو 20 تاریخی بازاروں میں روزانہ ہونے والا 10 سے 12 ہزار کروڑ روپے کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا۔‘‘ سی ٹی آئی نے اپنے خط میں چار بڑے مسائل کا ذکر کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق رام لیلا میدان میں 200 بڑی بسوں کی پارکنگ کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ 10 لاکھ لوگوں کو لانے کے لیے 15 ہزار سے 20 ہزار بسوں، کاروں اور ٹیمپوز کی ضرورت پڑے گی۔ یہ تمام گاڑیاں جواہر لعل نہرو (جے ایل این) مارگ، بہادر شاہ ظفر مارگ، نیتاجی سبھاش مارگ، اجمیری گیٹ، چاندنی چوک روڈ اور بڑے بازاروں کے آس پاس کھڑی ہوں گی، اس کے باوجود جگہ کم پڑ جائے گی۔ اس سے وسطی دہلی اور پرانی دہلی میں ٹریفک جام اور لاک ڈاؤن جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

رام لیلا میدان کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں 20 بڑے بازار

سی ٹی آئی کے مطابق رام لیلا میدان کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں 20 بڑے تھوک اور خوردہ بازار واقع ہیں، جو 300 سال پرانے ہیں اور پورے ملک میں سامان فراہم کرتے ہیں۔ ان میں چاندنی چوک، صدر بازار، کناٹ پلیس، پالیکا بازار، جن پتھ، بھاگیرتھ پیلس، کھاری باولی، کشمیری گیٹ، نیا بازار، لاجپت رائے مارکیٹ، چاوڑی بازار، کناری بازار، دریبہ کلاں، بلی ماران، فتح پوری، تلک بازار، کرول باغ، جامع مسجد، نبی کریم، غفار مارکیٹ، اجمیری گیٹ-پہاڑ گنج اور دریا گنج شامل ہیں۔ ان بازاروں میں روزانہ نریلا، باوانا، اوکھلا، مایاپوری، منڈکا، ادیوگ نگر اور منگول پوری سمیت 56 صنعتی علاقوں سے 5 ہزار ٹرک اور ٹیمپو سامان لے کر آتے ہیں۔ یہاں سے روزانہ 3 ہزار ٹرک سامان گروگرام، نوئیڈا، غازی آباد، فرید آباد، سونی پت، پانی پت سمیت این سی آر کے 25 شہروں اور ملک کی تمام ریاستوں میں لے جاتے ہیں۔

31 اکتوبر سے ہی ٹریفک اور سامان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ

سی ٹی آئی نے کہا ہے کہ 31 اکتوبر کی دوپہر سے ہی بسیں اور گاڑیاں سنگھو، ٹکری، غازی پور اور بدر پور جیسے دہلی کے سرحدی مقامات پر پہنچنا شروع ہوسکتی ہیں۔ شام سے ہی بہادر شاہ ظفر مارگ اور جے ایل این مارگ پر بیریکیڈنگ بھی کی جاسکتی ہے۔ تنظیم کے مطابق ٹرانسپورٹر 31 اکتوبر سے ہی گاڑیاں بھیجنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس لیے ریلی کا اثر یکم نومبر سے نہیں بلکہ 31 اکتوبر سے ہی شروع ہوجائے گا۔ سی ٹی آئی نے بتایا کہ 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر صرف 5 سے 7 ہزار لوگ آئے تھے، تب بھی وسطی دہلی میں آٹھ گھنٹے تک ٹریفک جام رہی تھی۔ اب 10 لاکھ لوگوں کے آنے کی بات کی جارہی ہے۔

سی ٹی آئی کے دو مطالبات

سی ٹی آئی نے اپنے دو مطالبات پیش کیے ہیں۔ پہلے مطالبے میں تنظیم نے کہا ہے کہ یکم نومبر کی ریلی کو دیوالی کے بعد 10 یا 11 نومبر کو منعقد کیا جائے، تاکہ دھن تیرس اور دیوالی کے کاروبار میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ دوسرے مطالبے میں سی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اگر ریلی منعقد کرنا ضروری ہے تو اسے رام لیلا میدان کے بجائے براڑی میدان میں کیا جائے، جہاں 15 ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے جگہ موجود ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read