Bharat Express DD Free Dish

Court sends notice to Sonia Gandhi and Rahul Gandhi: نیشنل ہیرالڈ منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بھیجا نوٹس

یہ پورا تنازعہ ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) سے جڑا ہوا ہے جو کہ اب بند ہو چکے نیشنل ہیرالڈ اخبار شائع کرنے والی کمپنی ہے۔

فائل فوٹو۔

ایک نہایت اہم پیش رفت میں دہلی کی ایک عدالت نے نیشنل ہیرالڈ منی لانڈرنگ کیس میں کانگریس لیڈر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو جمعہ کو نوٹس جاری کیا۔ راؤس ایونیو کورٹس کے خصوصی جج (پی سی ایکٹ) وشال گوگنے نے یہ حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ای ڈی نے اس معاملے میں گاندھیوں کے خلاف استغاثہ کی شکایت درج کرائی تھی۔ نئی استغاثہ کی شکایت منی لانڈرنگ کی روک تھام کے ایکٹ (PMLA) 2002 کی دفعہ 44 اور 45 کے تحت دائر کی گئی ہے۔

یہ ہے پورا معاملہ

یہ پورا تنازعہ ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) سے جڑا ہوا ہے جو کہ اب بند ہو چکے نیشنل ہیرالڈ اخبار شائع کرنے والی کمپنی ہے۔ 2010 میں ایک نئی تشکیل شدہ کمپنی ینگ انڈین پرائیویٹ لمیٹڈ (YIL) نے انڈین نیشنل کانگریس سے AJL کا قرض ₹ 50 لاکھ میں حاصل کیا۔ اس کے بعد، YIL نے AJL کے اثاثوں کا کنٹرول سنبھال لیا، جن کی قیمت ₹ 2,000 کروڑ سے زیادہ تھی۔ YIL کے زیادہ تر حصص چوں کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے پاس تھے، جس کے نتیجے میں یہ الزامات لگے کہ انھوں نے AJL کی قیمتی جائیدادوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پارٹی فنڈز کا استعمال کیا۔

2014 میں شروع ہونے والی ED کی تحقیقات کانگریس پارٹی، AJL اور YIL کے درمیان مالی لین دین پر مرکوز تھی۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ گاندھی اور کانگریس کے دیگر رہنما ذاتی فائدے کے لیے اے جے ایل کے اثاثوں کو غلط استعمال کرنے کی سازش میں ملوث تھے۔ حال ہی میں ED نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کے تحت AJL سے منسلک جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی قیمت تقریباً ₹661 کروڑ روپے ہے۔

کانگریس نے کہا-انتقامی سیاست کر رہی ہے بی جے پی

اس دوران ای ڈی کی چارج شیٹ کو کانگریس پارٹی نے بدلے کی سیاست قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے اور ملک کی متعدد ریاستوں میں ای ڈی کے دفاتر کے باہر احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read