چندی گڑھ: پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی نے سابق کانگریس رہنما ڈاکٹر نوجوت کور سدھو کی پارٹی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ کارروائی اُن کے اُس بیان کے بعد کی گئی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کانگریس میں وزیراعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے کے لیے ’’500 کروڑ روپے‘‘ دینے پڑتے ہیں۔
کانگریس رہنماؤں کا ردعمل
کانگریس لیڈر سکھجندر سنگھ رندھاوا نے کہا کہ ایسا بیان دینا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو جوت سنگھ سدھو کو کبھی کانگریس کی طرف سے پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی (PCC) کا صدر بھی بنایا گیا تھا، جو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے بھی بڑا عہدہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’وہ ساڑھے تین سال خاموش رہیں اور اب جب انتخابات قریب ہیں تو ایسے بیانات دے رہی ہیں۔ جب پرینکا گاندھی وزیراعلیٰ بھگونت مان کے حلقے میں مہم کے لیے آئیں تو نوجوت کور سدھو نے ایک لفظ نہیں بولا۔ یہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے۔‘‘
عام آدمی پارٹی کا ردعمل
پنجاب کے وزیر ہرپال سنگھ چیمہ نے کہا کہ سدھو کے بیان نے کانگریس کے ’’کرپشن ماڈل‘‘ کی حقیقت عوام کے سامنے رکھ دی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اگر کوئی 500 کروڑ روپے دے کر وزیراعلیٰ بنتا ہے تو وہ ریاست کو لوٹے گا۔ یہی کانگریس اور بی جے پی کا ماڈل ہے۔‘‘ انہوں نے سابق کانگریس لیڈر اور اب بی جے پی پنجاب صدر سنیل جاکھڑ پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ اس کرپشن کے دوران خاموش تماشائی بنے رہے۔
نو جوت کور سدھو کا موقف
ڈاکٹر نوجوت کور سدھو نے اتوار کو دعویٰ کیا تھا کہ وہ پنجاب کو ’’سونے جیسی ریاست‘‘ بنا سکتی ہیں، لیکن اُن کے پاس ’’500 کروڑ روپے نہیں ہیں‘‘ جو انہیں وزیراعلیٰ بنوا سکیں۔
بی جے پی کا ردعمل: ’’کانگریس بدعنوانی میں ڈوبی ہے‘‘
بی جے پی رہنماؤں نے نوجوت کور سدھو کے بیان کو کانگریس قیادت کے خلاف براہ راست الزام قرار دیا۔ بی جے پی رکن پارلیمان سدھانشو ترویدی نے کہا: ’’نوجوت کور سدھو کے بیان سے واضح ہوگیا کہ کانگریس مکمل طور پر کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے۔‘‘ بی جے پی کے قومی ترجمان پردیپ بھنڈاری نے اس الزام کو راہل گاندھی اور سونیا گاندھی پر ’’براہ راست حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’اس کا مطلب ہے کہ جو شخص 500 کروڑ کا بریف کیس گاندھی ودرہ خاندان کو دے وہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی ’’لوٹ کے ماڈل‘‘ پر چلتی ہے اور اپنے کارکنوں کے ذریعے وسائل اکٹھے کرکے اعلیٰ قیادت کی پرتعیش زندگی کو برقرار رکھتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


