Bharat Express DD Free Dish

Congress furious over demand for affidavit: راہل گاندھی سے دوبارہ حلف نامہ مانگنے پر کانگریس برہم، ٹی ایم سی نے بھی الیکشن کمیشن پر اٹھائے سوال

اشوک گہلوت نے سوال کیا کہ اگر راہل گاندھی کا انکشاف کسی تحقیقاتی صحافی یا میڈیا ادارے نے کیا ہوتا تو کیا الیکشن کمیشن ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرتا یا ان سے حلف نامہ طلب کرتا؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا، چین اور روس جیسے ممالک میں بھی ایک پارٹی کی ہی حکومت ہے، وہاں بھی الیکشن کمیشن الیکشن کرواتا ہے۔ ان الیکشن کمیشنوں اور انتخابات کا کیا حال ہے پوری دنیا جانتی ہے۔ کیا ایسا ہی ہندوستان میں بھی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی۔

نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے ’ووٹ چوری‘ کے دعوؤں پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے ایک بار پھر حلف نامہ طلب کیا ہے، جس سے کانگریس اور اس کے اتحادی ناراض ہیں۔ کانگریس لیڈروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے حلف نامہ کا مطالبہ اپنی عزت بچانے کی کوشش ہے۔

عزت بچانے کی کوشش ہے حلف نامہ کا مطالبہ

راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر لکھا، ’’راہل گاندھی نے تمام ثبوت عوام کے سامنے رکھ کر الیکشن کمیشن کے ذریعے ووٹر لسٹ میں کی جانے والی ‘ووٹ چوری’ کو بے نقاب کیا ہے، پورے ملک کو ان پر بھروسہ ہے۔ الیکشن کمیشن کا حلف نامہ کا مطالبہ بالکل بیہودہ اور اپنی عزت بچانے کی کوشش لگتی ہے۔

پہلے بھی اپوزیشن نے الیکشن کمیشن پر لگائے الزامات

 انہوں نے مزید لکھا، ’’این ڈی اے حکومت کے دوران ہی 2018 میں چیف الیکشن کمشنر رہے او پی راوت نے کہا تھا کہ جب وہ الیکشن کمشنر تھے، تب کوئی سینئر لیڈر الزام لگاتا تو الیکشن کمیشن خود اس کی جانچ کر عوام کے سامنے سچائی پیش کرتا، تاکہ عوام کا الیکشن کمیشن پر اعتماد برقرار رہے۔ ماضی میں بھی کئی اپوزیشن لیڈروں جیسے اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن اڈوانی اور اس وقت کے کئی دیگر اپوزیشن لیڈروں نے الیکشن کمیشن پر الزامات لگائے تھے۔ ان میں سے کتنے لیڈران کے الیکشن کمیشن میں حلف نامے جمع ہیں؟

کیا یہی ہندوستان میں بھی ہو رہی ہے کوشش؟

اشوک گہلوت نے سوال کیا کہ اگر راہل گاندھی کا انکشاف کسی تحقیقاتی صحافی یا میڈیا ادارے نے کیا ہوتا تو کیا الیکشن کمیشن ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرتا یا ان سے حلف نامہ طلب کرتا؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا، چین اور روس جیسے ممالک میں بھی ایک پارٹی کی ہی حکومت ہے، وہاں بھی الیکشن کمیشن الیکشن کرواتا ہے۔ ان الیکشن کمیشنوں اور انتخابات کا کیا حال ہے پوری دنیا جانتی ہے۔ کیا ایسا ہی ہندوستان میں بھی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟

مہوا موئترا نے الیکشن کمیشن پر اٹھائے سوال

کانگریس کے علاوہ ترنمول کانگریس کی ایم پی مہوا موئترا نے بھی الیکشن کمیشن پر سوال اٹھائے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر لکھا، ’’ایفیڈیوٹ ایک حلف نامہ ہے کہ دی گئی معلومات اس شخص کے بہترین علم کے مطابق درست ہے اور اسے قانونی کارروائی میں بطور ثبوت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تو  صرف الیکشن کمیشن کی اپنی ہی دستاویزات کا استعمال ووٹ چوری ثابت کرنے کے لیے کی گئی ہیں، تو پھر ایفیڈیوٹ کی ضرورت کیوں؟

راہل نے الیکشن کمیشن پر لگائے سنگین الزامات

دراصل، 7 اگست کو لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سنگین الزام لگایا کہ ملک میں اپوزیشن اس لیے الیکشن ہار رہی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن ووٹ چوری میں ملوث ہے۔ اس دوران راہل گاندھی نے بنگلورو کی مہادیو پورہ اسمبلی سیٹ کے نتائج اور ووٹر لسٹ میں کچھ ووٹروں کے ناموں کو انکشاف کے طور پر دکھایا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read