Urdu Conclave 2026

CM Omar Abdullah: ’’کیا وائٹ ہاؤس جا کر ٹرمپ سے ملنا پڑیگا؟‘‘ مکمل ریاست کے درجے کے معاملے پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز سے مانگا جواب

جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے کے سلسلے میں نیشنل کانفرنس نے 20 جولائی کو جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر دہلی ہماری آواز نہیں سن رہی تو کیا ہمیں وائٹ ہاؤس جا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنی پڑے گی؟

جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ واپس دینے کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے وقت یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ یہ وعدہ پارلیمنٹ میں بھی دہرایا گیا اور سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے اپنے فیصلے میں اس کا ذکر کیا، لیکن کئی برس گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔طویل انتظار کے بعد اب وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اس مسئلے کو دہلی تک لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو سری نگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’اگر دہلی ہماری آواز نہیں سن رہی تو کیا ہمیں وائٹ ہاؤس جا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنی پڑے گی؟‘‘

مرکز کا ’مناسب وقت‘ کب آئے گا؟

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ مناسب وقت اور حالات کے مطابق بحال کیا جائے گا۔ تاہم اس ’مناسب وقت‘ سے متعلق سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ مرکز کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر کی حساس جغرافیائی صورتحال اور دہشت گردی کے مسلسل خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مرکزی حکومت جموں و کشمیر کی پولیس اور سکیورٹی نظام پر براہِ راست کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے، اسی لیے اسے فی الحال مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنائے رکھنا زیادہ مناسب سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاستی درجہ بحال ہونے کی صورت میں پولیس اور انتظامی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل ایک بڑا چیلنج ہوگی۔

دہلی اور سری نگر کے درمیان اختلافات برقرار

ریاستی درجے کے معاملے پر دہلی اور سری نگر کے درمیان اختلافات مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی جانب سے مسلسل مطالبے کے باوجود زمین، روزگار اور سیاسی اختیارات جیسے اہم معاملات پر مرکز اور مقامی قیادت کے درمیان اتفاق رائے قائم نہیں ہو سکا۔ 2023 میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود مرکزی حکومت نے اب تک کوئی واضح ٹائم لائن بھی پیش نہیں کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز پر جموں و کشمیر کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ ان کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل کانفرنس 20 جولائی کو دہلی میں جنتر منتر پر احتجاج کرکے مکمل ریاستی درجے کا مطالبہ دہرائے گی۔اس سے قبل جموں کے مہاراجہ ہری سنگھ پارک میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے وزیراعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم کی یقین دہانیوں میں وزن ہونا چاہیے۔ اس موقع پر شرکاء نے ’ہماری ریاست، ہماری شان‘ اور ’ہماری ریاست، ہمارا حق‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read