Urdu Conclave 2026

Cloudburst Hits Ghati Kathua: کشتواڑ کے بعد کٹھوعہ میں پادل پھٹنے کی خبر،اب تک 4 لوگوں کی گئی جان،ملبے میں دبے ہیں کئی سارے لوگ

اس واقعہ کی وجہ سے گاؤں کا باقی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور زمین و املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں تھی لیکن بعد میں چار افراد کے ہلاک اور چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں موسلادھار بارش کے درمیان بادل پھٹ گئے ہیں۔ وادی کے علاقے میں بادل پھٹنے کی وجہ سے کئی مکانات ملبے اور سیلابی پانی کے نیچے دب گئے۔ جموں-پٹھانکوٹ قومی شاہراہ کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں راحت اور بچاؤ کے کام کے لیے موقع پر موجود ہیں اور صورتحال کو سنبھالنے کی کوششیں جاری ہیں۔حکام نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کٹھوعہ ضلع کے راجباغ علاقے کے جوڈ ویلی گاؤں میں بادل پھٹنے کی واردات ہوئی۔

اس واقعہ کی وجہ سے گاؤں کا باقی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور زمین و املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں تھی لیکن بعد میں چار افراد کے ہلاک اور چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی ایک مشترکہ ٹیم کو فوری طور پر گاؤں بھیجا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ خبر ہے کہ لوگوں کے گھروں میں ملبہ جمع ہوگیا ہے اور قریبی گاڑیاں بھی ملبے تلے دب گئی ہیں۔

ان کے علاوہ کٹھوعہ پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے باگارڈ اور چانگرا گاؤں اور لکھن پور تھانہ کے تحت دلوان ہٹلی علاقے میں بھی شدید بارش کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے۔ تاہم یہاں کسی بڑے نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔شدید بارشوں کی وجہ سے بیشتر آبی ذرائع کی سطح آب میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ دریائے اُجھ بھی خطرے کے نشان کے قریب بہہ رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظت کے لیے پانی کے ذرائع سے دور رہیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ غور طلب ہے کہ اس سے قبل کشتواڑ ضلع کے چسوتی میں بادل پھٹنے کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں کم و بیش 65 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read