Bharat Express DD Free Dish

Kishtwar cloudburst

اس واقعہ کی وجہ سے گاؤں کا باقی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور زمین و املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں تھی لیکن بعد میں چار افراد کے ہلاک اور چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جان کی قیمت کوئی نہیں لگا سکتا لیکن متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے اور انہیں امداد پہنچانے کا کام بھی جاری ہے۔ نقصان کا مکمل اندازہ فی الحال ممکن نہیں لیکن ہماری ترجیح لوگوں کی جان بچانا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید لکھا:"46 لاشیں پہلے ہی برآمد کی جا چکی ہیں اور انہیں سرکاری طور پر مردہ قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے کہ کتنے لوگ ابھی بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں یا ان 15 جان لیوا سیکنڈز میں بہہ گئے ہوں گے۔"

عمر عبداللہ نے کہا کہ: "ریسکیو آپریشن میں فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، پولیس اور انتظامیہ سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی زمین پر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔"

جمعرات کے روز کشتواڑ کے چشوتی علاقے میں بادل پھٹنے کے بعد سیلاب آگیا۔ مقامی ایم ایل اے سنیل شرما نے بتایا کہ یہ واقعہ اس جگہ پیش آیا جہاں شری مچل یاترا کے لیے چار پہیہ گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اور کئی عارضی دکانیں لگی ہوئی ہیں۔ اے ڈی سی کشتواڑ کے مطابق شری مچل یاترا کو اگلے نوٹس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔