Bharat Express DD Free Dish

Kishtwar Cloudburst: کشتواڑ آفت میں اب تک 60 اموات، وزیرِاعظم مودی ذاتی طور پر صورت حال پر نظر رکھے ہوئے

وفاقی وزیر نے مزید لکھا:”46 لاشیں پہلے ہی برآمد کی جا چکی ہیں اور انہیں سرکاری طور پر مردہ قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے کہ کتنے لوگ ابھی بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں یا ان 15 جان لیوا سیکنڈز میں بہہ گئے ہوں گے۔”

جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں شدید بادل پھٹنے کے واقعے کے بعد ریسکیو اور ریلیف کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اب تک 60 اموا ت ہو جا چکی ہیں اور انہیں سرکاری طور پر مردہ قرار دیا گیا ہے اور 100 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق اور  75 افراد کے لاپتہ ہونی کی اطلاع۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ امدادی کارروائیاں “مکمل رفتار” سے جاری ہیں، اور فوج، نیم فوجی دستے، جموں و کشمیر پولیس اور انتظامیہ پوری قوت کے ساتھ اس میں مصروف عمل ہیں۔

جتیندر سنگھ نے انتظامیہ کی بہادری کی تعریف کی

جتیندر سنگھ نے اپنی پوسٹ میں لکھا: “میں فوج، نیم فوجی دستوں، جموں و کشمیر پولیس اور انتظامیہ کی دل سے تعریف کرتا ہوں، جنہوں نے اس کٹھن صورتِ حال میں — جو ایک قدرتی آفت ہے اور ساتھ ہی دشوار گزار پہاڑی علاقوں، ناقص مواصلات اور خراب موسم جیسی قدرتی رکاوٹوں سے نبرد آزما ہے — اپنی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ مقامی لوگوں کی بھی اتنی ہی تعریف کی جانی چاہیے، جو 14 اگست کی دوپہر ہونے والے اس بھیانک بادل پھٹنے کے واقعے سے سکتے میں تھے، لیکن فوراً کارروائی میں لگ گئے۔”

وزیرِاعظم مودی ذاتی طور پر صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں

انہوں نے لکھا کہ اس سے زیادہ اطمینان کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی ذاتی طور پر اس صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دراصل 2014 کے بعد مرکزی حکومت کی مداخلت سے  مقدس مچھیل یاترا کے علاقے کو سڑک، موبائل ٹاور، بجلی، صاف پانی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات میسر ہو سکیں۔ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے، لیکن جو عزیز کھو چکے ہیں، انہیں واپس نہیں لایا جا سکتا۔

46 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں

وفاقی وزیر نے مزید لکھا:”46 لاشیں پہلے ہی برآمد کی جا چکی ہیں اور انہیں سرکاری طور پر مردہ قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے کہ کتنے لوگ ابھی بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں یا ان 15 جان لیوا سیکنڈز میں بہہ گئے ہوں گے۔”

قابلِ ذکر ہے کہ کشتواڑ کے چشوٹی علاقے میں جمعرات کو بادل پھٹنے کے بعد اچانک سیلاب آیا۔ یہ واقعہ اُس جگہ پیش آیا جہاں شری مچھیل یاترا کے لیے چار پہیہ گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اور کئی عارضی دکانیں قائم تھیں۔ اے ڈی سی کشتواڑ کے مطابق، شری مچھیل یاترا اگلی اطلاع تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ مقامی پولیس و انتظامیہ کے علاوہ ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور دیگر ایجنسیاں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
بادل پھٹنے کے بعد آئی تباہی

کشتواڑ ضلع کے چشوتی گاؤں میں جمعرات کے روز بادل پھٹنے سے یہ حادثہ پیش آیا۔ یہ آفت مچھیل ماتا مندر کے راستے میں آنے والے چشوتی گاؤں میں دوپہر 12 بج کر 25 منٹ پر رونما ہوئی۔ جب یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت مچھیل ماتا مندر کی یاترا کے لیے وہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ یہ یاترا 25 جولائی کو شروع ہوئی تھی اور 5 ستمبر کو ختم ہونی تھی۔

اچانک آئی سیلابی صورتحال کے باعث کم از کم 16 رہائشی مکانات اور سرکاری عمارتیں، تین مندر، چار پن چکیاں، 30 میٹر لمبا ایک پل اور 12 سے زائد گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read