Bharat Express DD Free Dish

Kathua

سیکورٹی فورسز کو خدشہ ہے کہ دہشت گرد اب بھی علاقے میں موجود ہو سکتے ہیں۔ جنگلاتی اور دشوار گزار علاقہ ہونے کی وجہ سے آپریشن کو چیلنجنگ مانا جا رہا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے باوجود جوان پوری مستعدی کے ساتھ سرچ آپریشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

اس واقعہ کی وجہ سے گاؤں کا باقی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور زمین و املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں تھی لیکن بعد میں چار افراد کے ہلاک اور چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

پانچ مارچ کو کٹھوعہ میں تین شہری مارہون گاؤں میں شادی کی تقریب سے واپس آتے ہوئے لاپتہ ہو گئے۔ ان کی لاشیں 8 مارچ کو ایک جنگلاتی علاقے میں ایک آبشار کے قریب فوج، پولیس، ڈرون اور سونگھنے والے کتوں کی وسیع تلاش کے بعد برآمد ہوئیں۔

سب سے کم بارہمولہ میں ہوئی ووٹنگ ہوئی ہے، جہاں پانچ بجے تک 55.73 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ دیگر اضلاع میں بھی ووٹنگ کچھ حدتک بہتر دکھائی دے رہی ہے۔

دہشت گردوں کی اس حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لیے جموں ڈویژن کی پہاڑی چوٹیوں اور گھنے جنگلات میں چار ہزار سے زائد فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز کی اس بدلی ہوئی حکمت عملی کے بعد ان اضلاع میں دہشت گردانہ حملوں میں کافی کمی آئی ہے۔

این آئی اے کی ایک ٹیم گھات لگائے مقام پر پہنچ گئی ہے اور تحقیقات میں پولیس ان کی مدد کر رہی ہے۔ فوج، جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف اور پیرا کمانڈو اہلکار دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے علاقے کی آباد بستیوں اور جنگلوں میں تلاشی لے رہے ہیں۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ کیا، 'میں کٹھوعہ (جموں و کشمیر) کے بدنوٹا میں دہشت گردانہ حملے میں ہندوستانی فوج کے پانچ بہادر جوانوں کی ہلاکت پر غمزدہ ہوں۔

جموں و کشمیر پولیس کے ایک خصوصی پولیس افسر (ایس پی او) نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ہفتے کی رات دیر گئے علاقے میں تین مشتبہ افراد کو ہتھیاروں کے ساتھ دیکھا تھا۔