Urdu Conclave 2026

CJI BR Gavai’s speech at Edinburgh Law School: چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی کا ایڈنبرا لاء اسکول میں کیا خطاب، کہا-’’بھارت کا آئین ایک زندہ ستاویز ہے‘‘

انھوں نے کہا کہ آئین کی تشکیل کرتے وقت آئین سازوں نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ آئین کو مستقبل کی نسلوں کے مطابق بدلنا اور ترقی دینا ضروری ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی نے ایڈنبرا لاء اسکول میں ’’آئین ایک ارتقائی دستاویز کے طور پر‘‘ کے  موضوع پر خطاب کرتے ہوئے بھارت کے آئین کو ایک ’’زندہ اور مسلسل ارتقا پذیر دستاویز‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ آئین کی تشکیل کرتے وقت آئین سازوں نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ آئین کو مستقبل کی نسلوں کے مطابق بدلنا اور ترقی دینا ضروری ہے تاکہ ہمیشہ معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی تبدیلیوں سے ہم آہنگ رہا جا سکے۔

چیف جسٹس بی آر گوئی نے کہا کہ ’’آئین ایک زندہ دستاویز ہے۔ ہم مستقبل کی نسلوں کو آج کے آئین سے باندھ کر نہیں رکھ سکتے۔ انھیں اس بات کا موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنی معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیوں کے مطابق آئین کو تبدیل کر سکیں‘‘۔ جسٹس گوئی نے واضح کیا کہ کیسے آئین کی تیاری میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور دیگر قانونی دانشوروں نے آئین کی ترمیمی طاقت کے حوالے سے ایک متوازن راہ اپنائی گئی۔

آئین ایک زندہ دستاویز: جسٹس بی آر گوئی

انھوں نے کہا کہا کہ آئین کو اپنانے کے بعد کے ابتدائی سالوں میں عدالتی فیصلوں نے معاشرتی مساوات کے لیے اصلاحات کی راہ ہموار کی اور یہی وجہ تھی کہ 1951 میں آئین میں پہلی ترمیم کی گئی، جس کے ذریعے خاص اقلیتوں اور پیچھے رہ جانے والی طبقات کے لیے ریزرویشن کی سہولت دی گئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے ڈاکٹر امبیڈکر کے 25 نومبر 1949 کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’آئین ایک زندہ دستاویز ہے جو وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔‘‘

 

چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں بتایا کہ بھارتی دستور کی مسودہ سازی میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور دیگر قانونی ذہنوں آئندہ نسلوں کو محدود نہ کرنے کے لیے دستور کو تبدیل کرنے کے پارلیمانی اختیارات کی تفصیل سے وضاحت کی، جو کہیں کہیں بہت سخت اور کہیں کہیں بہت نرم معلوم ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے مختلف اہم عدالتی مقدمات اور آئینی ترامیم کا حوالہ دیا جنھوں نے دستور کی بنیادی روح اور عدالتی جائزہ جیسے بنیادی اصولوں کو مستحکم کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کئی اور کیسز کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ کس طرح پارلیمنٹ کی ترمیمی طاقت کو محدود کیا گیا تاکہ آئین کی ’’بنیادی ساخت‘‘ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دستور کی ترمیمی طاقت کے ذریعے نہ صرف سماجی اصلاحات کی گئیں بلکہ مقامی خودمختاری کے ادارے جیسے پنچایتی راج اور شہری مقامی حکومتوں کو بھی آئینی حیثیت دی گئی۔ علاوہ ازیں، حقوقِ تعلیم، خواتین کی نمائندگی اور اقلیتوں کے لیے خصوصی ریزرویشن جیسے اہم اقدامات بھی دستور میں شامل کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کا آئین ایک لچکدار اور ترقی پذیر دستاویز ہے جو وقت کے تقاضوں اور معاشرتی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالتا رہتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read