Bharat Express DD Free Dish

India China Border: بھارت سے ٹکرانے کے لیے تبت میں چین نے  نصب کئے میزائل لانچر اور ریڈار پوسٹ،  سیٹلائٹ امیجری میں چین بے نقاب

سیٹلائٹ امیجری نے تبت میں چین کی نئی فضائی دفاعی تیاری کو بے نقاب کر دیا۔ تبت کے گار کاؤنٹی میں میزائل لانچر اور ریڈار پوسٹیں دیکھی گئی ہیں۔ بھارت کے نیوما ایئر فیلڈ پر دشمن نظریں جمائے کھڑا ہے۔

بھارت-چین سرحد پر کشیدگی کے درمیان سیٹلائٹ تصاویر نے چین کی تازہ فوجی سرگرمیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تبت کے گار کاؤنٹی میں واقع اس نئی سائٹ پر مضبوط شیلٹر، ریڈار پوسٹیں اور چھپے ہوئے میزائل لانچر نصب کیے گئے ہیں۔ یہ مقام لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) کے پار بھارت کے اسٹریٹجک نیوما ایئر فیلڈ کی جانب نگاہیں جمائے ہوئے ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ تعیناتی علاقے میں چین کی ہوائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرے گی اور سرحد پر بڑے فوجی اپ گریڈ کی نشاندہی کرتی ہے۔

HQ-9 میزائلوں کی موجودگی سے تشویش میں اضافہ

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، یہ سیٹلائٹ تصاویر چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی پینگونگ جھیل کے نزدیک کی کارروائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ HQ-9 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کی تعیناتی سے بھارت کی فضائیہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا آسان ہو جائے گا۔ گار کاؤنٹی، جو لداخ  سےملحق واقع ہے، پہلے سے ہی ایک حساس علاقہ رہا ہے۔ 2020 کے گلوان تنازع کے بعد سے دونوں ممالک نے سرحد پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، لیکن یہ نئی تعیناتی لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر امن کے اقدامات کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

علاقائی توازن خراب ہو سکتا ہے: چینی اقدام

تجزیہ کاروں نے آگاہ کیا ہے کہ یہ فوجی تیاری مشرقی لداخ میں فضائی برتری کی دوڑ کو تیز کرے گی۔ نیوما ایئر فیلڈ، جو بلند مقام پر واقع ہے، بھارت کی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ چین کا یہ اقدام دوطرفہ مذاکرات کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں دونوں فریق علیحدگی (Disengagement) پر متفق ہوئے تھے۔ تاہم، سیٹلائٹ شواہد واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ بیجنگ اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھانے میں مصروف ہے۔ بھارت کو اب اپنی جوابی حکمت عملی (Counter Measures) پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read