کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) نے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو خط لکھ کر نااہل ووٹروں کو شامل کرنے اور اہل ووٹروں کے ناموں کو ہٹانے کے الزامات پر حلف نامہ طلب کیا ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے راہل گاندھی اور کانگریس کے وفد کو جمعہ کو دوپہر ایک سے تین بجے تک ملاقات کا وقت بھی دیا ہے۔
راہل گاندھی کے دعوے پر الیکشن کمیشن کا ردعمل
دراصل کرناٹک الیکشن کمیشن نے جمعرات کو راہل گاندھی کے ووٹر لسٹ میں دھاندلی کے الزامات کا جواب دیا۔ کرناٹک کے الیکشن کمشنر نے راہل گاندھی سے نااہل ووٹروں کو شامل کرنے اور اہل ووٹروں کے ناموں کو ہٹانے کے الزامات پر حلف نامہ طلب کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کے وفد نے 8 اگست 2025 کو سی ای او سے ملاقات اور میمورنڈم پیش کرنے کے لیے وقت مانگا تھا، جس کے لیے دوپہر ایک سے تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
Chief Electoral Officer of Karnataka writes a letter to Lok Sabha LoP Rahul Gandhi. Says, “… It is understood that during a Press Conference held today, you had mentioned about the inclusion of ineligible electors and exclusion of eligible electors in the Electoral Rolls cited… pic.twitter.com/3pzXQEyfix
— ANI (@ANI) August 7, 2025
سی ای او نے کہا کہ ووٹر لسٹ عوام کی نمائندگی ایکٹ 1950، ووٹر رجسٹریشن رولز 1960 اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق شفاف طریقے سے تیار کی گئی ہے۔ خط کے مطابق ڈرافٹ ووٹر لسٹ نومبر 2024 میں کانگریس کے ساتھ شیئر کی گئی اور جنوری 2025 میں حتمی ووٹر لسٹ کا اشتراک کیا گیا، اس کے بعد کانگریس کی جانب سے کوئی اپیل یا شکایت درج نہیں کی گئی۔
راہل گاندھی کو حلف نامہ داخل کرنا چاہئے
سی ای او نے راہل گاندھی سے درخواست کی ہے کہ وہ ووٹر لسٹ میں شامل یا ہٹائے گئے افراد کے نام، پارٹ نمبر اور سیریل نمبر کے ساتھ حلف نامہ جمع کرائیں تاکہ ضروری کارروائی شروع کی جا سکے۔ حلف نامے میں یہ بھی بتانا ہو گا کہ دی گئی معلومات درست ہیں، غلط معلومات دینے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ انتخابی نتائج کو ہائی کورٹ میں انتخابی پٹیشن کے ذریعے ہی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی مسلسل الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری کا الزام لگا رہے ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن آف انڈیا نے راہل گاندھی کے بیان کو گمراہ کن، حقائق سے خالی اور دھمکی آمیز قرار دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



