امبیکاپور: چھتیس گڑھ کے سرگوجا ضلع میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے میں تین ملزمین کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا ہے۔ واقعہ واڈرف نگر تھانہ علاقے سے جڑا ہوا ہے، جس کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ متاثرہ خاتون، جو امبیکاپور کی رہنے والی ہے، نے تھانہ کوتوالی میں تحریری شکایت درج کرائی۔ خاتون کے مطابق 18 جنوری 2026 کی صبح تقریباً چھ بجے اس کے رشتہ دار روی چند عرف گڈو نے فون کر کے بتایا کہ واڈرف نگر میں کام کا موقع ہے اور وہ آ کر دیکھ لے۔ اس بات پر یقین کرتے ہوئے خاتون گھر سے نکلی اور بس کے ذریعے پہلے امبیکاپور اور پھر وہاں سے دوسری بس کے ذریعہ واڈرف نگر پہنچی۔
شکایت کے مطابق بس اسٹینڈ پر روی چند اسے لینے آیا اور موٹر سائیکل پر ایک کمرے میں لے گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے شراب منگوائی۔ اسی دوران اس کے دو ساتھی، تیج منی اور دیپک بھی وہاں پہنچ گئے۔ تینوں نے پہلے خود شراب پی اور پھر خاتون کو زبردستی شراب پلائی۔ اس کے بعد تینوں ملزمین نے مل کر خاتون کے ساتھ زبردستی نازیبا حرکت کی۔
واقعے کے بعد خاتون کسی طرح وہاں سے نکل کر پولیس کے پاس پہنچی اور پوری واردات کی تفصیل بیان کی۔ خاتون کی شکایت پر کوتوالی پولیس نے ابتدائی مقدمہ درج کر کے کیس کو بسنت پور تھانہ علاقے کی واڈرف نگر چوکی منتقل کر دیا۔ وہاں جرم نمبر 09/2026 کے تحت بی این ایس کی دفعہ 70(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی گئی۔
تفتیش کے دوران پولیس نے تینوں ملزمین کو حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے جرم قبول کر لیا، جس کے بعد پولیس نے روی چند عرف گڈو پارسیا عمر 38 سال، تیج منی گوتم عمر 18 سال 5 ماہ اور دیپک وشوناتھ عمر 20 سال کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں تینوں کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



