Bharat Express DD Free Dish

Channi Vs Ravneet Bittu: یہ پنجاب کا سب سے بدعنوان آدمی نہ ہوا تو میں اپنا نام بدل دوں گا، لوک سبھا میں رونیت بٹو اور چرنجیت چنی کے بیچ زبانی جنگ

دراصل  بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے، چنی نے بٹو کے دادا اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ بینت سنگھ کے قتل کا ذکر کیا۔ اس پر حال ہی میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے رونیت بٹو اور چنی کے درمیان زبانی جنگ چھڑ گئی۔

لوک سبھا میں جمعرات کو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور جالندھر کے ایم پی چرنجیت سنگھ چنی اور مرکزی وزیر رونیت بٹو کے درمیان زبردست زبانی جنگ دیکھنے کو ملی۔ پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران مرکزی وزیر رونیت سنگھ بٹو پنجاب کے سابق وزیر اعلی چرن جیت سنگھ چنی پر برہم ہو گئے۔ لوک سبھا میں چنی کے زبانی حملے سے ناراض رونیت بٹو نے انہیں پنجاب کا سب سے کرپٹ آدمی قرار دیا۔ بٹو نے یہاں تک کہا کہ پورے پنجاب میں اگر کوئی امیر ترین آدمی ہے تو وہ چنی ہے۔ وہ یہیں نہیں رکے اور کہا کہ اگر چنی سب سے بدعنوان شخص نہ ہو،تو میں اپنا نام بدل لوں گا۔

دراصل  بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے، چنی نے بٹو کے دادا اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ بینت سنگھ کے قتل کا ذکر کیا۔ اس پر حال ہی میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے رونیت بٹو اور چنی کے درمیان زبانی جنگ چھڑ گئی۔ بٹو کے تبصرے پر چرنجیت سنگھ چنی نے کہا کہ بٹو تمہارے دادا کو شہید کر دیا گیا تھا۔ لیکن وہ اس دن نہیں مرے تھے، وہ اس دن مر گئے تھے جس دن آپ نے کانگریس چھوڑی تھی۔ اس پر برہم بٹو نے کہا کہ ان کے دادا سردار بینت سنگھ نے کانگریس کے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے اپنی جان قربان کی تھی۔

بٹو نے مزید کہا کہ چنی صاحب غربت کی بات کرتے ہیں لیکن وہ پنجاب کے امیر ترین آدمی ہیں۔ بٹو نے  چیلنج کیا کہ اگر وہ پنجاب کا سب سے امیر اور کرپٹ آدمی نہیں  ہواتو میں اپنا نام بدل لوں گا۔ بٹو نے غصے سے کہاکہ یہ چرنجیت چنی ہزاروں کروڑ کا مالک ہے۔ بٹو نے پوچھا کہ وہ گورا کس کو بتا رہا ہے ؟ پہلے وہ بتائیں کہ سونیا گاندھی کہاں کی ہیں۔ بٹو کے اس بیان کے بعد جب چنی نے بولنا شروع کیا تو حکمران جماعت کے ارکان نے ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ حکمراں جماعت کے کچھ ایم پیز ویل میں آگئے۔ اپوزیشن ارکان  بھی آڑے آگئے۔ ایوان میں دونوں جماعتوں کے ارکان آمنے سامنے ہوگئے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read