Bharat Express DD Free Dish

 یکساں سول کوڈ سے متعلق جمعیۃعلماء ہند کی عرضی پرمرکزی حکومت نے مانگی مہلت، ہائی کورٹ میں اب 15 اکتوبرکو ہوگی سماعت

اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جی نریندراورجسٹس آلوک مہرا کے سامنے آج جب یہ معاملہ بینچ کے سامنے پیش ہوا تو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے مزید مہلت دینے کی درخواست کی، جس پرعدالت نے فیصلہ صادرکیا کہ آئندہ 15 اکتوبر کو عدالت اس معاملہ پر باضابطہ سماعت کرے گی۔

نئی دہلی: اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے خلاف جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے داخل کی گئی اہم پٹیشن پراتراکھنڈ ہائی کورٹ اب 15 اکتوبر2025 کوباضابطہ طورپرسماعت کرے گی۔ قابل ذکرہے کہ 18 اگست کواس معاملہ پرجب سماعت ہوئی تھی توجمعیۃعلماء ہند ودیگرکی طرف سے داخل شدہ پٹیشن کے دفاع میں سینئرایڈوکیٹ راجورام چندرن عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

سالسٹرجنرل نے عدالت سے مانگی مہلت

انہوں نے عدالت کومطلع کیا تھا کہ اتراکھنڈ حکومت نے تو اپنا اعتراض داخل کردیا ہے، لیکن مرکزی حکومت نے اپنا اعتراض داخل نہیں کیا ہے، جس پرچیف جسٹس اتراکھنڈ ہائی کورٹ جسٹس جی نریندراورجسٹس آلوک مہرا نے مقدمہ کی سماعت 23 ستمبر تک کے لئے ملتوی دی تھی، آج جب یہ معاملہ بینچ کے سامنے پیش ہوا توسالیسٹرجنرل تشارمہتا نے عدالت سے مزید مہلت دینے کی درخواست کی، جس پرعدالت نے فیصلہ صادرکیا کہ آئندہ 15 اکتوبرکوعدالت اس معاملہ پرباضابطہ سماعت کرے گی۔ ہائی کورٹ نے اس کے لئے ڈھائی بجے دن کا وقت بھی مقررکردیا ہے۔

صوبائی حکومت کے ذریعہ یکساں سول کوڈ نافذ کرنے پرسوال

اس سے قبل کے سماعت کے دوران جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے بینچ کے سامنے دواہم باتیں رکھی تھیں، پہلی یہ کہ لسٹ تھری انٹری 5کے تحت کسی صوبائی حکومت کو یکساں سول کوڈ بنانے اوراسے نافذ کرنے کا اختیارنہیں ہے، یہاں تک کہ دفعہ 44 بھی کسی صوبائی حکومت کواس طرح کی قانون سازی کی اجازت نہیں دیتی ہے، دوسری اہم بات انہوں نے یہ کہی تھی کہ اس قانون سے شہریوں کے ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، جوآئین کی دفعہ 14،19، 21 اور25 میں دیئے گئے ہیں۔

اتراکھنڈ حکومت نے نافذ کیا یکساں سول کوڈ

واضح رہے کہ اتراکھنڈ اسمبلی میں یکساں سول کوڈ کی منظوری کے تقریباً ایک سال بعد گزشتہ 27جنوری 2025 کووزیراعظم نریندرمودی کی موجودگی میں اسے نافذ کردیا گیا ہے، اس طرح اتراکھنڈ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی کی ہدایت پرجمعیۃعلماء ہند نے اس فیصلہ کواتراکھنڈ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، اپنے موقف کے دفاع کے لئے جمعیۃ علماء ہند نے ملک کے سینئروکلاء کی خدمات حاصل کی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read