یکساں سول کوڈ سے متعلق جمعیۃعلماء ہند کی عرضی پرمرکزی حکومت نے مانگی مہلت، ہائی کورٹ میں اب 15 اکتوبرکو ہوگی سماعت
اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جی نریندراورجسٹس آلوک مہرا کے سامنے آج جب یہ معاملہ بینچ کے سامنے پیش ہوا تو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے مزید مہلت دینے کی درخواست کی، جس پرعدالت نے فیصلہ صادرکیا کہ آئندہ 15 اکتوبر کو عدالت اس معاملہ پر باضابطہ سماعت کرے گی۔
مدرسوں کوسیل کرنے کے معاملہ پراتراکھنڈ حکومت کونوٹس جاری، جمعیۃ علماء ہند نے داخل کی عرضی، سپریم کورٹ کے حکم کا دیا گیا حوالہ
اتراکھنڈ کی دھامی حکومت کو6 ہفتے کے اندرجواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مدرسوں کو بند کرنے کی مہم، مسلمانوں کو آئینی اختیارسے محروم کردینے کی ایک بڑی سازش ہے۔
Jamiat Ulema-E-Hind moves High Court against implementation of UCC: یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے خلاف جمعیۃ علماء ہند پہنچی ہائی کورٹ، مولانا ارشد مدنی نے کہا- یہ آئین کی بالادستی کوختم کرنے کی ایک دانستہ کوشش
چیف جسٹس اتراکھنڈہائی کورٹ جی نریندر اورجسٹس آلوک مہرا نے سینئر ایڈوکیٹ کی درخواست کو قبول کرتے ہو ئے مقدمہ کی سماعت 23 ستمبرکوکئے جانے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کوبھی حکم دیا کہ وہ اگلی سماعت سے قبل جمعیۃ علماء ہند ودیگرکی پٹیشن پراپنا جواب داخل کرے۔
یکساں سول کوڈ کا نفاذ کسی بھی صوبائی حکومت کے دائرہ اختیارمیں نہیں، اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کے وکیل کپل سبل نے دی بڑی دلیل
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں ایک سیکولر آئین کے موجود رہتے ہوئے جس طرح یہ قانون لایا گیا وہ جانبداری، امتیاز اور تعصب کا مظہر ہے ہی نہیں آئین کی بعض دفعات کا حوالہ دے کرجس طرح قبائل کو اس قانون سے الگ رکھا گیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی سماجی اور مذہبی شناخت کو مجروح اورختم کرنے کی غرض سے ہی یہ قانون وضع کیا گیا ہے۔





