Bharat Express DD Free Dish

’’کمرمیں رسّی باندھ کرگھمانا قانوناً غلط…‘‘، جہانگیرخان معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے کہا- حقوق انسانی کی خلاف ورزی ٹھیک نہیں

کلکتہ ہائی کورٹ نے گرفتار شخص کی کمرمیں رسّی باندھنے کو قانوناً غلط ٹھہرایا ہے اور اسے حقوق انسانی کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔ جہانگیرخان معاملے میں سماعت کرتے ہوئے جسٹس بھٹا چاریہ نے پولیس کو کسی بھی شخص کے حقوق کی خلاف ورزی نہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ مغربی بنگال میں گرفتاریوں کے دوران ایسی تصاویر کے پیش نظر آیا ہے، جہاں ملزمین  کو رسّی باندھ کر لے جایا جا رہا تھا۔

مغربی بنگال میں اقتدارکی تبدیلی کے بعد کہیں بھتہ خوری کے الزام میں گرفتارکیا جا رہا ہے توکہیں بدعنوانی کے الزام میں گرفتارکیا جا رہا ہے۔ مختلف معاملات میں، تصاویرسامنے آئی ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ گرفتارافراد کوپولیس ان کی کمرمیں رسّیاں باندھ کرسڑک پرگھما رہی ہے۔ اسی طرح کی تصویرترنمول کانگریس کے لیڈراورفالتا سے امیدوار(بعد میں میدان سے ہٹ گئے) جہانگیرخان کی بھی سامنے آئی ہے، جوفالٹا میں ہارگئے تھے۔

جہانگیرخان کی اہلیہ کے ذریعہ داخل کی گئی ایک عرضی کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سوگت بھٹا چاریہ نے جمعہ کے روزکہا کہ کسی ملزم کے کمرمیں رسّی باندھ کرگھومنا قانونی طورپرکبھی بھی جائزنہیں ہے۔ جج نے کہا کہ اس بات دھیان رکھا جانا چاہئے کہ کسی بھی شخص کے حقوق انسانی کی خلاف ورزی نہ ہو۔

جہانگیرخان کی اہلیہ نے عدالت میں داخل کی تھی عرضی

فالتا کی ترنمول لیڈر’پشپا‘ جہانگیرخان کومتعدد الزامات کا سامنا ہے۔ خبروں کے مطابق، فالتا کے ضمنی الیکشن سے ہٹنے کے بعد وہ مفرورتھے۔ بعد میں نیپال کی سرحد سے گرفتارکرلیا گیا تھا۔ ان کی اہلیہ رجینا بی بی نے عدالت میں درخواست داخل کی اوریہ دریافت کیا تھا کہ جہانگیرخان کے خلاف کتنے کیس ہیں۔ ان کی کمرمیں رسّی باندھ کرپریڈ کرانے کی تصویربھی سامنے آئی تھی۔ جج نے کیس کی سماعت میں کہا کہ کسی ملزم کی کمرمیں رسّی باندھنا قانونی طورپرکبھی جائزنہیں ہے۔ تب سرکاری وکیل نے کہا، ”مجھے کمرمیں رسّی باندھنے کے طریقے کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے۔ اب آرٹیفیشیل انٹلی جنس (اے آئی) سے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ پولیس سے رپورٹ ملنے کے بعد میں اپنا بیان دوں گا۔“ ریاست کے بیان کو دیکھتے ہوئے جج نے کہا کہ جہانگیرخان کے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کرنے والی کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ کیس کی اگلی سماعت یکم جولائی کوہوگی۔

عدالت کے تبصرہ پر کیا بولے کنال گھوش؟

گرفتار ہوئے شخص کی کمر میں رسّی باندھے جانے کے بارے میں بیلے گھاٹا سے ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی کنال گھوش نے کہا، ”ہم باربارکہہ رہے ہیں کہ اگرکسی نے جرم کیا ہے، تواس پرملک کے قانون کے تحت کیس چلے گا۔ اس کے بجائے، کسی کونہیں معلوم کہ ان کا جرم کیا تھا، کسی نے کسی پرداغ لگایا، پھران پرحملہ کیا، انہیں ٹارچرکیا، ان کے کپڑے اتارے اور ان کی کمر میں رسّی باندھ دی۔ اس میں سیاسی بدلہ اورزبردست کا دکھاوا شامل ہے۔ لیکن ان کا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ اس شخص نے اصل میں کیا جرم کیا ہے اوراگروہ قصوروارہے توملک کے قانون کے تحت اسے سزا ملنی چاہئے۔“

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read