Bharat Express DD Free Dish

بلڈوزر انصاف نہیں انتقام اور نفرت کی سیاست کی علامت بن چکا ہے: مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ حالات پر اٹھائے سوال

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بلاشبہ فرقہ پرستی اور مذہب کی بنیاد پر نفرت پیدا کرنے سے ملک کے حالات انتہائی مایوس کن اور خطرناک ہیں، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، امید افزا بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے، ہم ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں۔ بلکہ اپنے کردار وعمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں۔

نئی دہلی: جمعیۃعلماء اتراکھنڈ کی مجلس منتظمہ کے اجلاس سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کے حالات اس وقت انتہائی تشویشناک ہیں۔ آئین اورجمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اوراقلیتوں خاص طورپرمسلمانوں پرعرصۂ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔ امتیاز، ناانصافی اورنفرت کا سلسلہ اپنی انتہا کوپہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں اقتدارمیں بیٹھے ہوئے لوگ خود کوہی قانون سمجھنے لگے ہیں اورآمریت ان کے مزاج کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ دستورہند کی روح کومجروح کیا جا رہا ہے اورجمہوری اداروں کوکمزورکیا جارہا ہے، ملک تباہی کے آخری نشان کوچھو رہا ہے، جس کے سنگین نتائج پورے ملک کوبھگتنا پڑسکتے ہیں۔

قانون کی حکمرانی اورشہری حقوق کا کیا ہے مطلب؟

مولانا ارشد مدنی نے سخت لہجے میں کہا کہ بلڈوزرآج انصاف کا نہیں بلکہ انتقام، تعصب اورنفرت کی سیاست کی علامت بن چکا ہے۔ قانون اورعدالتوں کونظراندازکرکے لوگوں کے گھروں، دکانوں اورعبادت گاہوں کومسمارکرنا آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اورانصاف کے دوہرے پیمانے سے بدامنی اورتباہی کے راستے کھلتے ہیں۔ اگرحکومتیں عدالتوں کی جگہ بلڈوزر سے انصاف کرنے لگیں توپھرقانون کی حکمرانی اورشہری حقوق کا کیا مطلب باقی رہ جاتا ہے؟ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بلڈوزورچلاکرکسی کا گھرتوڑنا سزا نہیں جرم ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سرکارجج نہیں بن سکتی، قانونی اورغیرقانونی تعین عدلیہ ہی کرے گی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جن مدارس اورمساجد پر آج بلڈوزرچلائے جا رہے ہیں، انہی اداروں کے علماء نے انگریزاستعمارکے خلاف سب سے پہلے1803 میں جہاد آزادی کا فتویٰ دیا اورپھراس کے نتیجے میں جنگ آزادی کے متوالوں نے تحریک آزادی کی قیادت کی اورملک کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ آج انہی اداروں کوتعصب اورنفرت کی بنیاد پرنشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مسلمانوں سے حب الوطنی اوروفاداری کی سند کیوں مانگ رہے ہیں لوگ؟

اسی طرح پچھلے کچھ برسوں میں حکومت کی طرف سے فرقہ پرستوں کی کھلی حمایت اورقانونی اداروں کی خاموشی کی وجہ سے جس طرح نفرت کی سیاست کوبڑھاوا ملا ہے، اس سے ان صدیوں پرانی اقدارکوزبردست نقصان پہنچا ہے، جوہمارے ملک کی صدیوں پرانی تہذیب اورروایت کا حصہ رہی ہیں اورجن کی بنیاد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے باہمی اتحاد ومحبت پر ٹکی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج مسلمانوں سے حب الوطنی اوروفاداری کی سند وہ لوگ مانگ رہے ہیں، جن کے پروجوں کے بارے میں تاریخ میں انگریزحکومت سے معافی نامے اورمصالحت کے واقعات درج ہیں، جبکہ مسلمانوں اوران کے اکابرنے ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں اوراپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہی سنگین حالات کے پیش نظر14 اور15 مئی کونئی دہلی میں جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں طویل غوروخوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ مختلف مذاہب کے درمیان باہمی رواداری، احترامِ انسانیت اوربقائے باہمی کے فروغ کے لیے ہرسطح پر’’تحریک ہندومسلم اتحاد‘‘ (اوردیگراقلیتوں اوراہل مذاہب کے درمیان اتحاد کا پیغام) چھوٹے بڑے پروگرام کئے جائیں گے اوراسے ایک تحریک کی شکل میں پورے ملک میں متعارف کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے تحت ہرسطح پر چھوٹے اوربڑے پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن میں تمام مذاہب کی ایسی اہم شخصیات کومدعوکیا جائے گا، جونہ صرف ہم خیال ہوں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت اورطاقت بھی رکھتے ہوں۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ “تحریک ہندو-مسلم اتحاد” کے تحت منعقد ہونے والے تمام پروگرام مکمل طورپرغیرسیاسی ہوں گے اوران کا مقصد سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اورباہمی بھائی چارے کوفروغ دینا ہوگا۔

ملک کی اکثریت کومحبت اوربھائی چارہ میں یقین: مولانا ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک کی اکثریت آج بھی محبت، بھائی چارے اوربقائے باہمی پریقین رکھتی ہے۔ المیہ صرف یہ ہے کہ نفرت کے شورمیں محبت کی آوازیں دب کررہ گئی ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ محبت اورخیرکی روشنیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ماضی میں بھی ملک کی سالمیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورہرقسم کی انتہاپسندی کے خلاف ہراول دستے کا کردارادا کرتی رہی ہے اورآج بھی اپنے وسیع اورباوقارپلیٹ فارم کے ذریعہ امن، محبت اورانصاف کی آوازوں کوطاقت فراہم کرے گی۔ جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی کمیٹی نے اس تحریک کومؤثر، منظم اورعوامی سطح پرکامیاب بنانے کے لئے ضلعی اورمقامی جمعیتوں کے ذمہ داران سے مشورے کے بعد ایک واضح ہدف کے ساتھ اپنی جدوجہد کا آغازبھی کردیا ہے۔ آئندہ مہینوں میں اس عنوان پرہندوستان کے مختلف صوبوں میں اجلاس ہوں گے، جن کی تیاریا ں شروع کردی گئی ہیں۔

مسلمانوں سے اپنا حوصلہ بلند رکھنے کی اپیل

مولانا ارشد مدنی نے اخیرمیں کہا کہ بلاشبہ فرقہ پرستی اورمذہب کی بنیاد پرنفرت پیدا کرنے سے ملک کے حالات انتہائی مایوس کن اور خطرناک ہیں، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، امید افزا بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے، ہم ایک زندہ قوم ہیں اورزندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پرنہیں رہتیں۔ بلکہ اپنے کردار وعمل سے حالات کا رخ پھیردیتی ہیں۔ یہ ہمارے امتحان کی سخت گھڑی ہے۔ چنانچہ ہمیں کسی بھی موقع پراپنے دین، صبر، امید اوراستقلال کا دامن ہاتھ  سے نہیں چھوڑنا چاہئے، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ قوموں پرآزمائش کی گھڑیاں اسی طرح آتی رہتی ہیں۔ مسلمان دنیا کے اندرفنا ہونے کے لئے نہیں آیا، مسلمان 1400 سال سے انہیں حالات میں زندہ ہے اورقیامت تک زندہ رہے گا۔ مسلمانوں کو اپنا حوصلہ بلند رکھنا چاہیے،اس چراغ کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔ رہتی دنیا تک اللہ اللہ کہنے والے رہیں گے، جس دن وہ نہیں رہیں گے، اس دن یہ دنیا بھی نہیں رہے گی۔ یہی ہمارا ایمان اورعقیدہ ہے کہ ہمیشہ ہمیش صرف اللہ ہی کی حکومت باقی رہنے والی ہے۔

ہزاروں مسلمانوں نے ہاتھ اٹھاکرمانگی دعا

 پروگرام کے اختتام پرمولانا ارشد مدنی نے نے ہزاروں مسلمانوں سے ہاتھ اٹھوا کر یہ عہد لیا کہ موجودہ حالات خواہ کتنے ہی دشوار اور صبر آزما کیوں نہ ہوں، مسلمان ہر حال میں صبر، حسنِ اخلاق، محبت، رواداری اور امن کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے تاکید کی کہ مسلمان کسی نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اپنے اخلاق اور اپنے حسنِ سلوک سے دیں، کیونکہ اسلام انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا دین ہے۔دوسری طرف انہوں نے ہندو بھائیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کرنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، کیونکہ ملک باہمی احترام، محبت اور بھائی چارے سے مضبوط ہوتا ہے، نفرت اور انتشار سے نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read