Bharat Express DD Free Dish

UP Election 2027: بی ایس پی میں اختلافات کے درمیان فائدہ کس کو ہوگا؟ راہل-اکھلیش کی پی ڈی اے حکمت عملی کام آئے گی یا کوئی اور مارے گا بازی؟

اتر پردیش میں مایاوتی اور آکاش آنند کے درمیان اختلافات، تنظیمی تبدیلیوں اور دلت ووٹ بینک کی کمزور ہوتی گرفت نے 2027 کے انتخابی حساب کتاب کو پیچیدہ کردیا، کانگریس اور سماج وادی پارٹی خالی جگہ پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔

اتر پردیش کی سیاست میں بہوجن سماج پارٹی اس وقت اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ مایاوتی اور آکاش آنند کے درمیان بڑھتی خلیج، سینئر لیڈر اشوک سدھارتھ کے خلاف کارروائی اور پارٹی میں جانشینی کو لے کر مسلسل بدلتے واقعات نے بی ایس پی کو گہرے بحران میں ڈال دیا ہے۔ اس کا براہ راست اثر اتر پردیش کے دلت ووٹوں پر پڑ سکتا ہے، جو تقریباً 21 فیصد ہیں اور 2027 کے انتخابی حساب کتاب میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔

بی ایس پی سے دلت ووٹ کیوں کھسک رہا ہے؟

بی ایس پی کا سب سے بڑا ووٹ بینک دلت رہا ہے، لیکن گزشتہ چند انتخابات میں یہ ووٹ بتدریج پارٹی سے دور ہوا ہے۔ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی کو 22.2 فیصد ووٹ ملے تھے، جبکہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں یہ گھٹ کر صرف 9.39 فیصد رہ گیا۔ 7 سال میں پارٹی کے ووٹ فیصد میں 13 فیصد سے زیادہ کی کمی آئی۔ 2024 میں بی ایس پی ایک بھی نشست نہیں جیت سکی، جبکہ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں بھی اسے صرف ایک نشست ملی تھی۔

کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی حکمت عملی کیا ہے؟

بی ایس پی کے کمزور ہونے کے بعد کانگریس اور سماج وادی پارٹی دونوں سرگرم ہوگئی ہیں۔ کانگریس دلت ووٹروں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ سماج وادی پارٹی پسماندہ، دلت اور اقلیت کے انتخابی اتحاد کے ذریعے دلتوں کو اپنے ساتھ لانے میں مصروف ہے۔ دوسری جانب چندر شیکھر آزاد کی آزاد سماج پارٹی بھی دلت نوجوانوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

2019 میں سماج وادی پارٹی-بی ایس پی اتحاد کا تجربہ

2019 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی نے مل کر انتخاب لڑا تھا۔ اتحاد نے 15 نشستیں جیتیں، جن میں بی ایس پی کو 10 اور سماج وادی پارٹی کو 5 نشستیں ملی تھیں۔ ووٹ فیصد کے لحاظ سے بی ایس پی کو 19.43 فیصد اور سماج وادی پارٹی کو 18.11 فیصد ووٹ ملے تھے۔ دلت ووٹ کا ایک بڑا حصہ بی ایس پی امیدواروں کے ساتھ گیا تھا، جبکہ غیر جاٹو دلتوں کا بڑا حصہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب چلا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ سماج وادی پارٹی کو اتحاد سے اتنا فائدہ نہیں ملا جتنی توقع کی جارہی تھی۔

2024 میں کیسے بدلی تصویر؟

2024 میں سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے اتحاد کرکے انتخاب لڑا، جبکہ بی ایس پی اکیلے میدان میں اتری۔ نتیجہ یہ رہا کہ سماج وادی پارٹی نے 37 اور کانگریس نے 6 نشستیں جیتیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی 33 نشستوں تک محدود ہوگئی، جبکہ بی ایس پی کا کھاتہ بھی نہیں کھلا۔سی ایس ڈی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق 44 فیصد جاٹو ووٹ بی ایس پی کے ساتھ رہا، لیکن غیر جاٹو دلتوں کا 56 فیصد ووٹ سماج وادی پارٹی-کانگریس اتحاد کے حق میں چلا گیا۔

دلت ووٹ میں تبدیلی کیوں آئی؟

2019 میں غیر جاٹو دلتوں کا بڑا حصہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ تھا، لیکن 2024 میں یہ ووٹ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ اپوزیشن کی جانب سے آئین، ریزرویشن اور ذات پر مبنی مردم شماری کا بیانیہ تھا۔ راہل گاندھی نے مسلسل سماجی انصاف اور نمائندگی کے مسائل اٹھائے، جس سے غیر جاٹو دلتوں میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی اتحاد کے تئیں اعتماد بڑھا۔

کانگریس کے لیے بڑا موقع

اتر پردیش میں کانگریس کا روایتی دلت اور اعلیٰ ذات کا ووٹ بینک ٹوٹ چکا تھا، لیکن بی ایس پی کی کمزور ہوتی گرفت نے کانگریس کو نیا موقع دیا ہے۔ پارٹی ذات پر مبنی مردم شماری، ریزرویشن اور آئین جیسے مسائل کے ذریعے دلتوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ سماجی انصاف کی قومی آواز ہے۔

دلت قیادت کو آگے لانا کانگریس کا نیا داؤ؟

کانگریس اب صرف مسائل اٹھانے تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ اپنی تنظیم میں بھی دلت قیادت کو نمایاں کررہی ہے۔ ملکارجن کھڑگے پارٹی کے قومی صدر ہیں اور اتر پردیش میں راجندر پال گوتم کو انچارج بنایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے کانگریس دلت ووٹروں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ تنظیم کے اندر بھی انہیں مناسب نمائندگی دی جائے گی۔

بی ایس پی کا ووٹ مکمل طور پر کانگریس کو کیوں نہیں جائے گا؟

2024 میں بھی 44 فیصد جاٹو ووٹ بی ایس پی کے ساتھ رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ مایاوتی کا روایتی ووٹ بینک اب بھی بڑی حد تک برقرار ہے۔ کانگریس کا ہدف بی ایس پی کے پورے ووٹ بینک کو حاصل کرنا نہیں بلکہ اس سے نکلنے والے ایک بڑے حصے کو اپنے ساتھ جوڑنا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے لیے کیا چیلنج ہے؟

اکھلیش یادو نے دلت ووٹوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے کئی تجربات کیے ہیں۔ بی ایس پی کے لیڈران کو پارٹی میں شامل کرنے سے لے کر ’بابا واہنی‘ بنانے اور طلبہ تنظیم کے لباس کے ضابطے میں تبدیلی تک کئی اقدامات کیے گئے، لیکن دلتوں اور سماج وادی پارٹی کے درمیان سماجی فاصلہ اب بھی موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ دلتوں کا اعتماد فی الحال کانگریس کی جانب زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔

مخالف حکومت لہر سے بی جے پی کو نقصان؟

2014 سے 2019 تک بھارتیہ جنتا پارٹی نے غیر جاٹو دلتوں میں مضبوط گرفت بنائی تھی، لیکن 2024 میں یہ بنیاد کمزور ہوگئی۔ غیر جاٹو دلتوں کی حمایت 60 فیصد سے گھٹ کر 29 فیصد رہ گئی۔ اپوزیشن کے بیانیے اور حکومت مخالف لہر نے بی جے پی کو نقصان پہنچایا۔

2027 کا اصل سوال

2027 کا انتخاب صرف مایاوتی بمقابلہ راہل گاندھی نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ جاٹو ووٹ کہاں جائے گا اور غیر جاٹو دلت کس کو منتخب کریں گے۔ کیا 2024 میں سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے ساتھ جانے والا ووٹ 2027 میں بھی وہیں برقرار رہے گا؟ یہی طے کرے گا کہ اقتدار کا انتخابی حساب کتاب کس کے حق میں جائے گا۔

آکاش آنند کا تنازع کتنا اہم ہے؟

بی ایس پی میں آکاش آنند سے متعلق جاری تنازع بھی اہم ہے۔ ایک وقت انہیں مایاوتی کا جانشین قرار دیا گیا، پھر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اب دوبارہ اہم ذمہ داریوں سے دور کردیا گیا ہے۔

اگر بی ایس پی کے پاس نوجوان دلت قیادت کا چہرہ نہیں رہتا تو کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے لیے پیدا ہونے والی سیاسی خالی جگہ مزید وسیع ہوسکتی ہے۔

دلت سیاست کا نیا دور

کانگریس راہل گاندھی کے ذریعے سماجی انصاف کا بیانیہ مضبوط کررہی ہے۔ سماج وادی پارٹی پسماندہ، دلت اور اقلیت کے اتحاد کے ماڈل پر کام کررہی ہے۔ چندر شیکھر آزاد نوجوان دلت سیاست کا چہرہ بننے کی کوشش کررہے ہیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی غیر جاٹو دلتوں کو دوبارہ اپنے ساتھ لانے کی کوشش میں ہے۔ یعنی 2027 کا انتخاب صرف اقتدار کی جنگ نہیں ہوگا بلکہ دلت ووٹوں کے نئے سیاسی ٹھکانے کی لڑائی بھی ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read