وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہو چکا ہے، لیکن اس کے خلاف مسلم تنظیموں اور اپوزیشن پارٹیوں کا احتجاج جاری ہے۔ اس درمیان شیوسینا یو بی ٹی رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے دعویٰ کیا ہے کہ وقف بل پر ان کی پارٹی سے حمایت حاصل کرنے کے لیے بی جے پی لیڈران نے آخر وقت تک کوشش کی تھی۔
#WATCH | Delhi | On being asked if Shiv Sena (UBT) will challenge the Waqf (Amendment) Bill 2025 in the Supreme Court, Shiv Sena (UBT) MP Sanjay Raut says, “No. We have done our work. We have said what we had to say and made our decision. This file is closed for us now.” pic.twitter.com/WoSiJMc0jL
— ANI (@ANI) April 5, 2025
سنجے راؤت نے کہا کہ بی جے پی کے مرکزی اور مہاراشٹر کے سرکردہ لیڈران ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی پارٹی کے رابطے میں تھے۔ شیوسینا یو بی ٹی لیڈر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ بل قانونی ڈھانچے میں بدعنوانی کو لانے اور 2 لاکھ کروڑ روپے کی زمین بی جے پی کے قریبی صنعت کاروں کو دینے کے لیے لایا گیا ہے۔
#WATCH | On Waqf Amendment Bill passed in Parliament, Shiv Sena (UBT) MP Sanjay Raut says, ” This bill has been brought to grab land…They will soon take Waqf land.” pic.twitter.com/YoXGQ74RYm
— ANI (@ANI) April 4, 2025
یہ دعویٰ سنجے راؤت نے 5 اپریل کو میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے نوین پٹنایک کی قیادت والی بی جے ڈی پر بھی دباؤ بنایا تھا، اور لوک سبھا میں وقف بل پر بی جے ڈی کی حمایت طلب کی تھی۔ حالانکہ بی جے ڈی نے بل کی مخالفت کا ہی فیصلہ کیا۔ پھر بھی انھوں نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو وہپ جاری نہیں کرتے ہوئے انھیں اپنی دانشمندی سے ووٹ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ سنجے راؤت کا کہنا ہے کہ بی جے ڈی کی طرح ہی بی جے پی والوں نے ہمارے ساتھ بھی کیا تھا، لیکن ہم تیار نہیں ہوئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




